گود لینا اور زینب

زینب سے شادی کرنے کے لیے محمد نے گود لینا ختم کردیا اور تمام اچھایاں جو اس سے آتی تھیں۔ لے پالک بچے اب اجنبی سمجھے جاتے گھر میں رہتے ہوئے خاندانی نام لینے  یا ریگولر بچے کی طرح وارثت لینے کے کسی حق کے بغیر۔ اس کے ساتھ محرم(خونی رشتے) کے قوانین نے بچے کے ساتھ تنہائی میں ہونا مشکل بنا دیا۔ آخری نتیجہ یہ ہے مسلمان مشکل سے کبھی بچے گود لیتے ہیں۔ الله یہ یقینی بنانا چاہتا تھا کہ سب کو معلوم ہو کہ وہ اپنے لے پالک لڑکوں کی سابقہ بیویوں سے شادی کرسکتے ہیں تو اس نے محمد کی زینب سے شادی کروائی( یا ہوسکتا ہے محمد اسے پسند کرتے تھے)۔

 

1408999224_ff48463297_z
Photo by Fanny

قدیم ثقافتیں اور گود لینا

 

 

 

تاریخ کی طرف دیکھتے ہوئے ہم جانتے ہیں کہ گود لیناایک عام پریکٹس تھی قدیم دور میں جو اسلامی عربیہ سے پہلے کے دور میں جاری رہی،لیکن بالآخر اسلام کے ساتھ ختم ہوئی۔ رومن اشرافیہ کے خاندان جنہوں نے گود لیے، یہ لے پالک بچہ تھا جس کی قدر تھی، کیونکہ اس کا اس کے لیے انتخاب ہوا تھا-اس کی خصوصیات کے لیے، ایک لے پالک بچے کو رومن دنیا میں زیادہ اونچا درجہ دیا جاتا تھا فطری بچے سے! لے پالک بچہ اپنے باپ کی ساری دولت،جائیداد،درجہ، ماتحت اور گاہکوں کا بھی مالک بن جاتا تھا،دوسرے لفظوں میں لے پالک باپ کی ساری طاقت اور وقار کا۔مثال کے طور پر جولیس سیزر اور کلیوپیٹرا کا ایک بچہ تھا،اور ایک لے پالک بچہ تھا۔ اندازہ لگائیں کہ کون اگلا رہنما بنا ؟ان کا گود لیا بچہ جو کہ سیزر آگسٹس بنا، پہلا سلطان رومن سلطنت کا۔ ایسا اس لیے کہ وہ جولیس کی طرف سے گود لیا گیا تھا ۔ اور جولیس کا فطری لڑکا؟ میری شرط ہے کے آپ نے اس کے بارے کبھی نہیں سنا ہوگا

یہی قبل از اسلام عربیہ کے ساتھ تھا۔ لے پالک بچہ آپ کے اپنے بچے کی طرح بن جاتا۔

عربی ضابطے کے مطابق گود لینا، اُس وقت،زید بن حارثہ بعد میں زید بن محمد کے نام سے جانے جاتے تھے اور وہ آزاد آدمی تھے،سماجی اور قانونی طور پرمحمد کے بیٹے سمجھے جاتے تھے

،طبری وکیپیڈیا

 

……اسلام نے یہ سب بلاک کردیا جب محمد نے زینب سے شادی کا فیصلہ کیا

اسلام میں گود لینے کے ساتھ مشکلات

یوسا گومہ نے ایک مضمون بعنوان “واۓ اڈاپشن اینڈ فوسٹرینگ مسٹ بی آور مسلم ڈیوٹی” اپریل 2016 میں لکھا

جب میں نے پوچھا کہ آیا مسلمان بچے بہت حلدی” نظام” میں آ جاتے ہیں اس نے بتایا کے ہاں ایسا ہی ہے، لیکن وہ سب سے مشکل بچوں میں سے ہیں جو گھروں میں ملتے ہیں ان کے منفرد مذھبی اور ثقافتی ضروریات کی وجہ سے۔ میں نے ایسے ہی استفسارات مشی گن, واشنگٹن, انڈیانا اور وسکانسن میں کیے صرف یہی جواب سننے کے لیے۔ میری استفسارات نے یہ ظاہر کیا کہ یو.ایس صحت اور انسانی خدمت کے ڈیپارٹمنٹ نے اس مسلے کو حل کرنے کی کوشش کی” اپنی ویب سائٹ پر  غیر مسلم رضاعی والدین کو مسلمان رضاعی بچوں کے ثقافتی میعار اورمذہبی روایات کے بارے آگاہی دینے کے لیے۔

محرم کے مسائل:۔

آپ کسی ایسے کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں جو آپ سے “متعلقہ نہیں” ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ ماں لے پالک بچے کو چھو نہیں سکتی یا اس کے ساتھ تنہا نہیں ہوسکتی، اور اس کے ارد گرد حجاب کے قوانین پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ایک شخص جسے میں جانتا ہوں اسے اس قانون کے گرد کام کرنا پڑا کچھ ادویات لینا پڑیں چھاتی کا دودھ لانے کے لیے۔ اور جب اس سے کام نہیں ہوا، انہوں نے اپنی بہنوں کوایک وقت کے لیے دودھ پلانے کے لیے لیا، بچے کے لیےمحرم بننے کے لیے۔

لے پالک لڑکا نام نہیں لیتا:۔

آپ کو لازمی انہیں ان کے والد کے نام سے پکارنا ہے۔ یہ بہت اہم ہے۔ اتنا اہم کہ آپ اس کی وجہ سے جہنم جا سکتے ہیں

 

:یہ روایت تھی ابو دہر سے(اللہ اُن پر راضی ہوں) کہ انہوں نے پیغمبر کو سُنا “کوئی شخص نہیں جو جانتے ہوئے اپنے آپ کوکسی کے نام کے ساتھ کہلواۓ اپنے باپ کے علاوہ لیکن اُس نے کُفر کیا۔جو بھی دعوی کرتا ہے کہ وہ اُن لوگوں میں سے ہے جن سےاُس کاکوئی خونی رشتہ نہیں, اُسےجہنم میں اپنی جگہ لینے دو”۔

(61 ،روایت منجانب بخاری، 3317،مسلم)

لے پالک بچے وراثت نہیں لیتے:۔

اسلام میں وارثت کے قوانین کٹر ہیں۔ سب کچھ پہلے سے مقرر ہے۔ صرف ایک تہائی کا آپ خود سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لہذا جب تک کوئی آپ کے لے پالک بچے کے لیے استثنا نہیں بنایا جاتا، اسے صفر ملے گا۔ اس کا موازنہ قبل از اسلام طریقے سے کریں جہاں لے پالک بچے سے اصلی لڑکے جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔

ایسا کیسے ہوا؟ بہت سے مسلمانوں کو اس سے آگاہی نہیں کے ایسا زید اور زینب کے مسلے کی وجہ سے ہوا۔

پیغمبر محمد نے اپنی بہو سے نکاح کیوں کیا

یہ قبل از اسلام عرب معاشرے میں ممنوع سمجھا جاتا تھا۔اتنا زیادہ کہ محمد لوگوں کو بتانے سے خوفزدہ تھا کہ وہ زینب سے شادی کرنے والا ہے۔

 

آپ ڈرتے تھے لوگوں سے جبکہ اللہ کا زیادہ حق ہے کہ تُم اُس سے ڈرو

(33:37)

زید محمد کے بیٹے کی طرح تھا۔ وہ زینب سے دو سال سے کم عرصہ سے نکاح میں تھا۔ وہ اچھے نسب(قریش) کی ایک پرکشش نوجوان خاتوں تھیں۔

 عائشہ نے کہا،پیغمبر محمد کی بیویوں میں سے زینب میری ہم مرتبہ تھی (محبت جو اُسے پیغمبر مُحمد سے ملی اور خوبصورتی میں

(بخاری)

درحقیقت حجاب کا قانون (عورتوں کے لیے سر ڈھانپنا) پیغمبر مُحمد کی زینب سے شادی کی رات نازل ہوا

حوالہ دیکھیں

Tafsir Asbab ul Nuzul by Waqidi for 33:53.

زینب اس کی  بہو کی طرح تھی۔ اس کی شادی محمد سے تقریبا پینتیس سال کی عمر میں ہوئی

یہ روایت تھی کہ انس نے کہا:۔ جب زینب کی عدت گزر گئی،الله کے رسول نے زید سے کہا: میری طرف سے اس کو شادی کی تجویز دو۔ زید گئے اور کہا: اے زینب شادمان ہوجاؤ، الله کے رسول نے مجھے ان کی طرف سے شادی کی تجویز دینے کے لیے بھیجا ہے۔ اس نے کہا: میں تب تک کچھ بھی نہیں کروں گی جب تک میں اپنے خدا سے مشاورت نا کرلوں۔ وہ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر چلی گئی،اور قرآن نازل ہوا، تب الله کے رسول آئے اور بغیر کسی رسم کے اس کے پاس چلے گئے”۔

(1428b مسلم)

محمد کو اس قانون کا “مظاہرہ” کرنے کی ضرورت کیوں پیش آی؟

آپ اپنی بہو سے شادی کرنا ہی کیوں چاہیں گے؟ کیا یہ عجیب نہیں ہے؟ یہ اس سے ملتا جلتا ہوتا کے میرے والد میری بیوی سے شادی کریں۔ وہ  میری بیوی کو اپنی بیٹی کہا کرتے تھے، اور اس کے ساتھ اپنی ذاتی بیٹی جیسا سلوک کرتے تھے۔ میں عمر کے فرق کا ذکر بھی کیا۔

کیا محمد کو زینب سے محبت ہو گئی تھی؟

سب سے پہلی تفسیر،ابن اسحاق نے ابن اسحاق نے مشکل سے پیغمبر کی بیویوں کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ ابن سعد( دو سو تیس ہجری میں وفات ہوئی) نے اس کہانی کا اس طرح سے ذکر کیا ہے: ۔

پیغمبر محمد زید سے ملنے گئے ( حجاب کا قانون بننے سے پہلے) اور زینب نے دروازہ کھولا یہ کہتے ہوئے کہ زید وہاں نہیں ہے، اور اندر آنے کی دعوت دیتے ہوئے۔پیغمبر محمد واپس مُڑ گیے، کُچھ بُڑبڑاۓ اور چلے گئے۔ جب زید واپس آیا، زینب نے جو ہوا اسے بتایا۔ اس نے کہا کہ پیغمبر محمد یہ کہتے ہوئے واپس چلے گئے ” سُبحان اللہ حی العظیم سُبحانہ مُصرف القلوب ( اللہ کی تمجید جو عظیم ہے وہ جو دلوں کو بدلنے والا ہے) ۔ زید سمجھ گیا اس کا مطلب ہے پیغمبر محمد نے اسے پسند کیا۔ بظاہر ان کی شادی میں اس سے پہلے کچھ مسائل تھے،اور اس کے بعد وہ(زید) زینب کے ساتھ مزید شادی میں رہنا برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے پیغمبر محمد سے کئی مرتبہ پوچھا اگر وہ اسے طلاق دے سکتا ہے، لیکن محمد نے اسے بتایا کہ نہیں، جیسے محمد اس سے شادی کرنے سے ڈرتے تھے کیونکہ لوگ کیا کہیں گے۔

آپ ڈرتے تھے لوگوں سے جبکہ اللہ کا زیادہ حق ہے کہ تُم اُس سے ڈرو

(33:37)

اس ورژن کے مطابق ، محمد نے اپنے دل میں کیا چھپایا؟ کہ اس نے زینب کو چاہا

مقتل ابن سلیمان جو کہ سب سے پہلی تفسیر ہے( ایک سو پچاس ہجری میں وفات) لیکن قابل اعتماد نہیں سمجھی جاتی اس نے بھی اس کہانی کا ذکر کیا۔

طبری( وفات تین سو دس ہجری) جسے تفسیر کا سب سے عظیم عالم سمجھا جاتا ہے،سب سے زیادہ قدامت پسند، سب سے زیادہ مستند تفاسیر کا انسائیکلوپیڈیا، سنی تفسیر کے گڑھ نے بھی اس کہانی کا ذکر کیا ہے۔ اس نے یہ ذکر ابن زید اور قتادہ سے روایت کیا جو ابن عبّاس کے طالب علم  تھے۔

اس کے علاوہ تفسیر سمرقندی، تھلبی،زمخشاری اور فخرالدین الرازی تمام نے اس کہانی کا ذکر کیا ہے۔

یہ نکات  پیغمبر محمد کی سیرہ حصّہ انہتر منجانب یاسر قادھی سے ہے۔

 

یہ اتنا بڑا مسلہ کیوں ہے؟ کیونکہ اگر وہ اسے(زینب کو) چاہتا تھا، اور پھر قرآن کی ایک آیات کے ساتھ آیا کہ اس نے اس سے شادی کرلی ہے، یہ پریشانی والی بات ہے کیونکہ آیات اس کے ذاتی فائدوں کے لیے آتی لگتی ہیں۔

دوسری تشریح، کہ محمد نے اس حقیقت کو چھپایا کہ” الله چاہتا تھا کہ وہ زینب سے شادی کرے” اس کا بھی ابن سعد میں ذکر ہے، اور بہیقی کے آغاز کے ساتھ مزید مستند بنتی نظر آتی ہے کیونکہ یہ محمد کو بہتر رنگ میں دکھاتی ہے۔ ابن کثیر(سات سو چوہترہجری) نے کہا” پہلی کچھ کتابوں میں  ایسی اطلاعات ہیں جس کا ذکرکرنا مناسب نہیں۔ ابن حجر( آٹھ سو باون ہجری) نے اس کبھی ذکر نہیں کیا۔ پھر، بعد میں جدید علماء جو احادیث اور تفسیر میں ماہر نہیں ہیں کہنا شروع کردیا کہ قدیم ورژن شیطانی مستشرقین کی طرف سے گھڑے گئے۔

کیسے گود لینا زید اور زینب کے ساتھ حرام ہوگیا

یہ بہت اہم تھا کہ آخری الہام میں اس بات کو یقینی بنانا کہ ہر کوئی جانتا ہو کہ وہ اپنے لے پالک لڑکوں کی سابقہ بیویوں سے شادی کرسکتے ہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے آپ کے بیٹے کی بیوی پیاری ہو، اور ہوسکتا ہے ایک دن اسے طلاق دے دے۔ بس اگر کبھی ایسا ہوتا ہے، الله اس کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ ہم جانتے ہوں کہ ہم اس سے شادی کرسکتے ہیں۔ ایسا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس حیرت انگیز قانون کوسب سے پہلے محمد کو بذات خود استعمال کرتے ہوئے نافذ کرنا۔ علماء کہتے ہیں کہ محمد کو زینب سے پیار نہیں ہوا تھا، لیکن اس کی بجائے یہ الله کا فیصلہ تھا اس کے لیے اس سے شادی کرنا۔ مندرجہ ذیل وجوہات کے لیے:

ان آیات کو نازل کرنے وجہ یہ تھی کہ الله تمام مومنین کے لیے قانون تجویز کرنا چاہتا تھا،کہ لے پالک بچے ان احکامات کے نیچے نہیں آتے جن کے نیچے حقیقی لڑکے آتے ہیں، کسی بھی طریقے سے ، اور یہ کے ان کے ساتھ کچھ غلط نہیں تھا جنہوں نے ان کو گود لیا ان کی بیویوں سے شادی کی( طلاق کے بعد)

(IslamQA)

قرآن کہتا ہے،

 

اور (اے حبیب!) یاد کیجئے جب آپ نے اس شخص سے فرمایا جس پر اللہ نے انعام فرمایا تھا اور اس پر آپ نے (بھی) اِنعام فرمایا تھا کہ تُو اپنی بیوی (زینب) کو اپنی زوجیت میں روکے رکھ اور اللہ سے ڈر، اور آپ اپنے دل میں وہ بات٭ پوشیدہ رکھ رہے تھے جِسے اللہ ظاہر فرمانے والا تھا اور آپ (دل میں حیاءً) لوگوں (کی طعنہ زنی) کا خوف رکھتے تھے۔ (اے حبیب! لوگوں کو خاطر میں لانے کی کوئی ضرورت نہ تھی) اور فقط اللہ ہی زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس کا خوف رکھیں (اور وہ آپ سے بڑھ کر کس میں ہے؟)، پھر جب (آپ کے متبنٰی) زید نے اسے طلاق دینے کی غرض پوری کرلی، تو ہم نے اس سے آپ کا نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح) کے بارے میں کوئی حَرج نہ رہے جبکہ (طلاق دے کر) وہ ان سے بے غَرض ہو گئے ہوں، اور اللہ کا حکم تو پورا کیا جانے والا ہی تھا

(الاحزاب 33:37)

لہذا گود لینا ایک ہی وقت حرام کیوں قرار دیا، میں صرف اندازہ لگا سکتا ہوں۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں؟ کیا آپ لوگوں کو یہ کہتے تصور کرسکتے ہیں” اوہ محمد نے زید بن محمد کی سابقہ بیوی زینب سے شادی کی”۔ یہ ایک بہت اچھا وقت ہوسکتا تھا گود لینے کے نظام کو ختم کرنے کا۔دوسری صورت میں، اب کیوں؟

لہذا اگر گود لینا اب حرام ہے، اس کا مظاہرہ کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ اپنے لے پالک لڑکوں کی سابقہ بیویوں سے شادی کرنا ٹھیک ہے؟

 

تو ہم نے اس سے آپ کا نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح) کے بارے میں کوئی حَرج نہ رہے جبکہ (طلاق دے کر) وہ ان سے بے غَرض ہو گئے ہوں

(33:37)

اس کا مظاہرہ کرنے ضرورت کیوں ہے؟ کیا یہ شادی کے مظاہرے کو فضول نہیں بنا دیتا؟  کوئی بھی اب کبھی گود نہیں لے سکتا۔

16Shares

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.