اسلام میں طلاق

اسلام میں طلاق کے قوانین ایک بہترین مثال ہیں ناقص نظام کی جو کہ غیر مستحکم اور ناپائیدار خاندانی حالات کی طرف لے جاتے ہیں۔یہ خاندان میں بہت زیادہ تکالیف اور مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ ایک مسلمان کے طور پر، طلاق کے قوانین مجھے بہت زیادہ الجھن میں ڈال دیا کرتے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کے کس طرح ایک کامل بہترین ہستی ایسے قوانین لاۓ گی جو کہ اچھی طرح ڈیزائن نہیں کۓ گئے۔ مسلمان خاندانوں میں خوفناک اور عظیم مصائب ہیں ان بہت بری طرح سے تیار کردہ قوانین کی وجہ سے۔ مرد اکثر طلاق کے الفاظ بول کر پچھتاتے ہیں،اور عورتیں اکثر اپنے آپ کوقصوروار محسوس کرتی ہیں ” اپنے شوہروں کو غصہ دلانے” اور اس کے طلاق کہنے کی وجہ بننے پر۔ یہ ان خاندانوں کے لیے بہت خوفناک دکھ اور ذہنی غم کی وجہ بنتا ہے جو اس صورتحال میں پھنس جاتے ہیں۔

Sad Lady by Bradley Gordon

 اسلام میں طلاق کی ایک مختصر وضاحت

ایک مرد اپنی بیوی کو “طلاق ” که سکتا ہے( یا کوئی بھی ایسا جملہ جس کا مطلب طلاق بنتا ہو)۔ تو وہ پھر ” جزوی طلاق” کی حالت میں چلی جاتی ہے۔ اگر وہ ” بیوی کو واپس لے لیتا ہے” ( یہ کہتے ہوۓ کہ میں نے تمہیں واپس لیا یا اسے چومتے ہوۓ یا چھوتے ہوۓ دکھا کر) تو بیوی واپس ” طلاق کے بنا والی حالت میں آ جائے گی”، لیکن اس کا ایک وار ہو چکا ہے۔اگر وہ اسے واپس نہیں لیتا تین ماہواریوں کے دوران جو کہ انتظار کا دورانیہ ہے، یہ ختم ہے[ حوالہ یہاں دیکھیے]۔ یہ ایسا لگتا ہے کہ انتظار کا یہ دورانیہ صرف اس لیے ترتیب میں ڈالا گیا ہے کہ اگر عورت دوبارہ شادی کرے تو، تو انہیں اس بات کا یقین ہو کہ باپ کون تھا۔

اگر وہ اسے اب دو بار واپس لے لیتا ہے تو، صرف ایک آخری  موقع بچتا ہے۔تیسری بار جب یہ ہوتا ہے تو ان کا تعلق ہمیشہ کے لیے منقطع ہوجاتا ہے۔* انہیں اب مزید ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں ہونے کی اجازت نہیں اور یہ ایسے ہی حرام ہوگا جیسے بغیر شادی کے جنسی تعلق قائم کر رہے ہوں اگر وہ اس کے بعد ایک ساتھ سویئں تو۔اگر وہ ایسا کریں اور پکڑے جائیں تو عوامی سطح پر کوڑوں کی سزا ہوگی۔

اس صورت میں کہ اگر وہ طلاق کے وقت حاملہ ہے، تو اس کا انتظار کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اس وقت تک جب تک وہ بچے کو جنم نہیں دیتی۔اگر یہ اس کی تیسری طلاق ہے، تو شوہر اسے واپس نہیں لے سکتا اور ایک دفع جب بچہ آ گیا تو شادی ختم۔

 

انتظار کے دورانیے کو قرآن میں مندرجہ ذیل انداز میں بیان کیا گیا ہے:۔

 

اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو اﷲ نے ان کے رحموں میں پیدا فرما دیا ہو، اگر وہ اﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں، اور اس مدت کے اندر ان کے شوہروں کو انہیں (پھر) اپنی زوجیت میں لوٹا لینے کا حق زیادہ ہے اگر وہ اصلاح کا ارادہ کر لیں، اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر، البتہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے

(Quran 2:228)

 

تین طلاقوں کے بعد ،چاہے ان کے بچے تھے یا نہیں فرق نہیں پڑتا۔اگر عورت نے ابھی جنم دیا ہے-فرق نہیں پڑتا۔یہ ختم ہوا۔ آپ کے بچوں یا نئے بچے کہ لیے بہت برا ہوا۔آپکے لیے بہت برا۔ اللہ اسی طرح چاہتا تھا۔ تو اب آپ کو لازماً نئے سرے شروع کرنا ہے اور یا تو نئی منگیتر تلاش کریں یا اپنی باقی زندگی کنوارہ رہ کر گزاریں۔

میں بہت سے جوڑوں کو جانتا ہوں جن کی علیحدگی ہوئی اور وہ بعد میں واپس ساتھ مل گئے۔ بعض اوقات آپ کو صرف وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اس پر اسلام کو اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے تھی۔ ایسی علیحدگی جس کے لیے واپس ایک ساتھ ہونے کے لیے دونوں جماعتوں کی ” ہاں” ضروری ہو۔ ایک علیحدگی جو دونوں میں سے کوئی بھی شروع کرسکے۔ بعض اوقات ہوسکتا ہے آپ کے منگیتر کے ساتھ کچھ مسائل ہوں جن کو واپس ان کے پاس آنے سے پہلے حل کرنا ضروری ہو-شاید وہ بدسلوکی کرتے ہوں، منشیات کرتے ہوں یا ضرورت سے زیادہ شراب نوشی کرتے ہوں،یا ہوسکتا ہے وہ آپ کے ساتھ عزت سے پیش نا آ رہے ہوں یا عزم کا مظاہرہ نہ کر رہے ہوں۔ بعض اوقات ان مسائل کو حل کرنے میں ایک سال یا اس سے بھی زیادہ لگ جاتا ہے۔ یہ ہمیشہ والی طلاق کا نظام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ لازمی  صورت نہیں ہے کہ ایک سال میں تین طلاقیں ہوجائیں گی یہ دس سال کی شادی کے دوران بھی ہو سکتی ہیں۔ اور پھر آپ اپنی بیوی کو ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے۔

فتویٰ سائٹس اور علماء لوگوں کی شادی کی درستگی کے سوالوں کی پہیلی میں پھنسے ہوۓ ہیں۔ بہت زیادہ دماغی توانائی اور غم اس وجہ سے کہ قوانین اچھی طرح ڈیزائن نہیں کیۓ گئے۔

طلاق دینے کی طاقت مرد کے ہاتھ میں ہے

کونسا خدا مرد کو فیصلہ کن اختیار دے گا نکاح توڑنے کا جبکہ عورت کواس کے لیے جج سے پوچھنا پڑے؟ بے شک ایک انسانی ساختہ خدا۔ یہ کیسے منصفانہ ہے؟ یہ کیسے عقلی اعتبار سے ٹھیک ہے؟ کیا جوڑے کو مل کر چیزوں کو نہیں چلانا چاہئے اور رشتے کو ختم کرنے کا برابر حق نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن اسلامی قانون کے ساتھ، عورت کولازمی درخواست کے لیے جج کے پاس جانا ہوگا,  جبکہ مرد لفظی طور پر کچھ الفاظ تھوکے  کچھ مہینوں کے وقت کی بات ہے اور ایک پوری زندگی کی شادی تباہ ہوجائے گی۔

 

پیغمبر نے کہا کہ اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے مضبوط وجہ کے بغیر طلاق مانگتی ہے،جنت کی خوشبو اس پر حرام کردی جائے گی۔

ابو داود،البانی نے اسے صحیح کہا ہے، ابن ماجہ میں بھی ہے

جیسا کہ مجھے بتایا گیا جب حدیث کہتی ہے کہ حتیٰ کہ جنت کی خوشبو بھی حرام ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ جنت میں نہیں جائے گی۔

کیا محمد نے ایسی کوئی بات ان مردوں کے لیے بھی کہی ہے جو طلاق مانگتے ہیں بنا کسی مضبوط وجہ کے؟ اصل میں، مرد طلاق کے لیے پوچھتے نہیں، وہ بس طلاق دیتے ہیں۔ یہاں  ہمیں ایک بیان ملتا ہے جو طلاق پر تنقید کرتا ہے:۔

 

اللہ کے پیغمبر نے کہا: ” حلال چیزوں میں سے اللہ جس چیز سے سب سے زیادہ نفرت کرتے ہیں وہ طلاق ہے.” (ابن ماجہ

 

میرا اکلوتا سوال یہ ہے، اگر اللہ اس سے اتنی سے زیادہ نفرت کرتا ہے، تو یہ اتنی زیادہ آسان کیوں ہے؟

عورت کے لیے طلاق کا عمل شروع کرنے کو “خلع” کہتے ہیں۔ خلع کا مطلب ہے بیوی کی علیحدگی رقم کی واپسی کے بدلے، شوہر رقم لے لیتا ہے اور بیوی کو جانے دیتا ہے، چاہے یہ ادائیگی مہر ہے( دلہن کا تحفہ) جو وہ اس نے بیوی کو دیا تھا، یا اس سے زیادہ یا اس سے کم ۔قرآن بیان کرتا ہے:۔

 

طلاق (صرف) دو بار (تک) ہے، پھر یا تو (بیوی کو) اچھے طریقے سے (زوجیت میں) روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے، اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ جو چیزیں تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ (اب رشتۂ زوجیت برقرار رکھتے ہوئے) دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، سو (اندریں صورت) ان پر کوئی گناہ نہیں کہ بیوی (خود) کچھ بدلہ دے کر (اس تکلیف دہ بندھن سے) آزادی لے لے، یہ اﷲ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں، پس تم ان سے آگے مت بڑھو اور جو لوگ اﷲ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں سو وہی لوگ ظالم ہیں
  (2:229)
اور حدیث میں ہمارے پاس یہ کہانی ہے:۔

ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے ان کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی ۔ ( کیونکہ ان کے ساتھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت کو نہیں ادا کر سکتی ) اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ، کیا تم ان کا باغ ( جو انہوں نے مہر میں دیا تھا ) واپس کر سکتی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ثابت رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا کہ باغ قبول کر لو اور انہیں طلاق دے دو

بخاری

تین طلاقیں

تین طلاقیں(تمام تین طلاقیں ایک دفع میں) یہ کچھ ایسا ہے جس کی سفارش نہیں کی گئی، لیکن محمد کے وقت سے موجود ہیں اور تاریخی طور پر انہیں تین ہی گنا جاتا تھا، یعنی ایک مستقل ناقابل تنسیخ طلاق کے طور پر۔ اس کو یہ کہتے ہوے کیا جاتا ہے ” میں نے تمہیں تین بار طلاق دی”جس انداز میں تمہیں پسند ہو

 

اگر یہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں تھیں، تو پھر تم نے الله کے حکم کی نافرمانی کی ہے جس طریقے سے طلاق ہونی چاہئے اس سلسلے میں اور تمہاری بیوی ناقابل تنسیخ طور پر طلاق یافتہ ہو چکی ہے

(نسائی)

 

بلکل اسی طرح یہاں بیان ہوا ہے جب ابو الشبا نے ابن عباس سے پوچھا:۔

 

ہمیں اپنی معلومات سے آگاہی دیں کہ آیا تین طلاقیں ( ایک ہی وقت میں اور ایک ساتھ ادا کی گئیں) الله کے رسول کی زندگی کے دوران ایک (طلاق) کے طور پر نہیں لی جاتی تھی۔ اس نے کہا حقیقت میں ایسا ہی تھا لیکن خلیفہ عمر کے دور میں جب لوگوں نے کثرت سے طلاق کہنا شروع کردی، تو اس نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت دی( ایک ہی سانس میں کہی گئی تین طلاقوں کو ایک ماننے کی)۔

(مسلم)

اسے ایک” بدعت” تصور کیا جاتا ہےلیکن اسے ابھی بھی مستقل پابند تین طلاقیں سمجھا جاتا ہے چار فقہوں کے مطابق، جبکہ سلفی اسے ایک کے طور پر ہی لیتے ہیں اوپر کے عمر کے حکم کی بنیاد پر۔

 

اس وجہ سے، اگر ایک آدمی تین طلاقیں : دیتا ہے بیوی کو یہ کہتے ہوئے: ” میں تمہیں تین بار طلاق دیتا ہوں” یا تین دفع یہ کہتے ہوئے:” میں نے تمہیں طلاق دی”،پھر تین طلاقوں کا اثر ہو جائے گا اور طلاق ناقابل تنسیخ ہوگی۔ یہ موقف سنی اسلامی قوانین کے تمام اسکولوں کا ہے،یعنی، حنفی،شافی،مالکی اور حنبلی۔ یہی موقف صحابہ کی بھاری اکثریت اور تابعین کا بھی تھا۔ شیعوں میں صرف جعفریہ فرقہ اور وہ جو متن کا لفظی مطلب لیتے ہیں جیسا کہ امام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد ابن القائم نےاس موقف سے اختلاف کیا۔

(IslamQA.org)

پورا رشتہ مرد کے مزاج پر اٹکا ہوا ہے

یہ کیسے ہے کہ ایک شادی جسے زندگی بھر کا عزم ہونا چاہئے ایک غیر اہم جھگڑے سے تباہ ہو سکتا ہو بہت سے منگیتروں کو شک والی صورتحال میں ڈال دیا جاتا ہے جب تین طلاقیں بولی جاتی ہیں، جو کہ شدید ذہنی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ وہ خاندان کو جوڑے رکھنے اور خدا اور جہنم کے ڈر کے درمیان اٹکے ہوئے ہیں۔ فتویٰ سائٹس اس سوال میں الجھے ہوئے ہیں کہ آیا شادی ابھی بھی درست ہے۔

سب سے عمومی سوال ہمیشہ ہے” کیا غصے میں دی گئی طلاق درست ہے؟”۔

 

فتویٰ سائٹس کہتی ہیں کہ چاروں فقہہ کا مجموعی رائے ہے کہ جی ہاں:۔

 

چاروں فقہہ کے علماء کی وسیع اکثریت کی رائے کے مطابق، غصے والے شخص کی طلاق واجب ہے یعنی درست ہے۔یہاں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص کا غصہ اسے حقیقت کی حس سے بیگانہ کردے، پھر یہ درست نہیں ہوگی۔یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ وہ پاگل انسان کی طرح بن گئے ہیں۔

http://seekershub.org/ans-blog/2013/11/27/is-it-valid-to-divorce-someone-while-angry-or-during-menstruation/

اور یہ سائٹ زیادہ  واضح طور پر وضاحت کرتی ہے کہ “جب تک کہ آپ پاگل نہ ہوں” یہ درست ہے:۔

آخر میں وہ صورتحال جو کہ اوپر والی دونوں صورتوں کے درمیان میں ہے جس میں ایک بہت ہی غصے میں تھا لیکن اس پاگل پن کی حد تک نہیں، اور وہ باخبر تھا کہ وہ کیا کہ رہا ہے۔ اس معاملے میں بھی، طلاق ہوجائے گی۔ ردل مہتر صفحہ چار سو باون والیوم چار)۔)

 

عام طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ غصہ پاگل پن کی حد تک نہیں پہنچا تھا جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے طلاق درست ہے اور ہوگی۔

http://islamqa.org/hanafi/daruliftaa-birmingham/88320

 

اس سوال پر تو فتووں کا انبار ہے۔ یہ ان’ سینکڑوں میں سے چند ہیں جو اگر آپ ڈھونڈ یں تو آپ کو ملیں گے:۔

 

اس سے کیا پتہ چلتا ہے کہ یہ مسلم برادری  میں یہ ایک بڑا مسلہ ہے۔ اس سے ملتا جلتاکوئی مسلہ غیر مسلم برادری میں وجود نہیں رکھتا جیسے کہ وہ صرف ایک لڑائی کرسکتے ہیں اور دوبارہ صلح کرسکتے ہیں کچھ جادوئی لفظ کہنے کی پریشانی لیے بنا جو کہ ان کے رشتے کو ہمیشہ کے لیے توڑ سکتے ہیں۔

ایک برتر نظام میں ایک لازمی ہفتے یا علیحدگی کے بعد جوڑے کو ایک جج ڈھونڈنے کی ضرورت پیش آئے گی، اگر دونوں میں سے کوئی جماعت بھی طلاق چاہتی تھی۔اب، ٹھنڈے دماغ غالب آئیں گے۔کوئی  جذبات اور عارضی غصے کی بنیاد پر غلط طلاقیں نہیں ہوگیں۔

 

کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ عورتیں زیادہ جذباتی ہیں؟

کیا اسلامی طلاق کے قانون اس طرح سے ڈیزائن اس لیے کیا گیا کہ عورتیں” بہت زیادہ جذباتی ہیں”؟ نہیں،سادہ لفظوں میں یہ قوانین مردوں کے لیے عورتوں کو قابو کرنے کے لیے بنائے گئے۔

ویسے سب سے پہلے، سب سے بڑا مسلہ اس دلیل کے ساتھ یہ ہے کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے خاندانوں کو اس قانون کے ساتھ مسلہ ہے اور کتنے مردوں نے طلاق کا آغاز کیا اور اس کہ بعد فوری طور پر افسوس کیا۔ یہ دکھاتا ہے کہ کہ اس قانون کا ڈیزائن جس طرح ابھی کھڑا ہے، ایک خوفناک خیال تھا۔

ہم مردوں،عورتوں کے بارے میں اور ان کے جذبات کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

مرد اور عورتیں دونوں جذباتی ہیں لیکن مختلف طریقوں سے۔ مردوں کو عام طور پر اپنے جذبات کو چھپانا سکھایا جاتا ہے۔انہیں اکثر نہ رونا سکھایا جاتا ہے یا”اسے مرد کی طرح لو”۔اس کا یہ مطلب نہیں کے مرد کم جذباتی ہیں،بجاۓ اس کہ وہ مختلف طرح سے اس پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ عورتوں کو مردوں پر پر کچھ فائدہ ہے- تحقیق بتاتی ہے کہ وہ بہتر پہچان کر سکتی ہیں اور دوسروں کے منفی جذبات کو  بہتر پراسیس کرسکتی ہیں مردوں کی  نسبت۔ [حوالہ] کیا عورتیں مردوں سے زیادہ جذباتی ہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ عورت بہتر دیکھ سکتی ہے اور سمجھ سکتی ہے جب اس کا منگیتر پریشان ہے حتیٰ کے اگر وہ اسے عیاں نا بھی کرے تب بھی۔ مرد کے ایسی چیزوں کی طرف حساس ہونے کے امکانات کم ہیں۔ زیادہ مساوات انسانی والے معاشروں میں عورتیں موقع ملنے پر بڑی تنظیموں کی قیادت اور ان کا انتظام کرنے کی اہل ہیں۔ وہاں بہت ساری عورتوں کی مثالیں ہیں ایسے عہدوں پر جیسا کہ شیریل سنڈبرگ فیس بک کی چیف آپریٹنگ افسر، جن کا شمار فوربز کے مطابق دنیا کی  دس طاقتور ترین عورتوں میں ہوتا ہے۔ [حوالہ] اٹھائیس طاقتور ترین عورتیں۔کیسے اسلام میں عورتوں کو طلاق کا حق بھی نہیں دیا گیا اور اسلام سے باہر وہ کامیابی سے دس ہزار ملازمین کو سنبھال سکتی ہیں، ایک لمحے کے نوٹس پر تمام کونکالنے کے فیصلہ کن اختیار کے ساتھ اگر وہ سمجھیں کہ کمی کمپنی کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے؟۔ اگر عورتیں جذباتی طور پر اتنی ہی غیر مستحکم تھیں تو وہ کیسے دنیا کی کچھ سب سے بڑی تنظیموں کو کامیابی سے چلا سکتی ہیں؟  عورتیں بعض معاشروں میں ترقی نہیں کرتیں اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ مرد انہیں نچلے عہدوں میں ڈال دیتے ہیں کیونکہ انہیں ان کی پوری صلاحیتیں نظر نہیں آتیں۔ اسلام بھی اس میں قصور وار ہے

 

واپس ایک ساتھ ہونے کے لیے عجیب قانون

اسے کسی اور سے شادی کرنی ہوگی،جنسی تعلق قائم کرنا ہوگا،اور پھر وہ اسے طلاق دے سکتا ہے۔ کیا کہا؟ کیا میں نے یہ کہ دیا؟ جی ہان۔ آپ جان بوجھ کر ایسا نہیں کر سکتے،لیکن یہ ایماندارانہ ہونا چاہئے”جنسی عمل + طلاق”۔ اب یہ چیزیں کس نے گھڑی ہیں؟ خدا نے؟

 

پھر اگر اس نے (تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو اس کے بعد وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر کے ساتھ نکاح کر لے

 ( 2:230 قرآن)

یہ حدیث وضاحت کرتی ہے:۔

 

” پیغمبر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین دفع طلاق دی،پھر ایک اور شخص نے اس عورت سے شادی کرلی اور اس نے دروازہ بند کیا اور پردہ کھینچا،پھر اس نے عورت کو شادی کے دخول کے بغیر طلاق دے دی۔ انہوں نے کہا”  وہ پہلے کے لیے حلال نہیں ہے(دوبارہ شادی کے لیے) جب تک کے کوئی دوسرا اس کے ساتھ مباشرت نہ کرلے”۔

(نسائی)

 

الله نے طلاق کو اتنا آسان کیوں بنایا اور پھر ایسے قانون لے آیا اس کے استعمال کو روکنے کے لیے؟ یہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ زنا کی سزا کتنی سخت ہے لیکن اس کے لیے چار گواہ ہونے چاہئیں(جو کہ کبھی نہیں ہوتا)۔ کسی نے واضح طور پر اس کے بارے میں اچھی طرح نہیں سوچا۔

اس مندرجہ ذیل فتویٰ میں آدمی نے اپنی بیوی کو غصے میں طلاق دی۔ اس کی شادی بچانے کے لیے ایک خاندانی دوست نے ” شادی” کی اور شاید اس کی سابقہ بیوی کے ساتھ مباشرت کی تا کہ وہ اس سے دوبارہ شادی کرسکے۔ حلالہ کا یہاں مطلب ہے کہ ایک مرد ایک عورت سے شادی کر رہا ہے اور مباشرت کر رہا ہے اس کے ساتھ جس کے بعد طلاق دیتا ہے تا کہ وہ اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جا سکے۔

 

میرے اپنی بیوی سے بچے ہیں اور میں نے اسے غصے میں طلاق دے دی۔ دوبارہ اکھٹے ہونے میں ہماری مدد کرنے کے لیے  ایک خاندانی دوست نے میری بیوی سے نکاح کیا حلالہ کی کوئی شرط رکھے بنا لیکن ہم سب جانتے تھے کہ ہم یہ نکاح حلالہ  کے مقصد کے لیے کر رہے ہیں…(وضاحت کے لیے ترمیم کی گئی ہے۔

http://islamqa.org/hanafi/darulifta-deoband/22676

بی بی سی نے بھی حلالہ شادیوں کے موضوع پر ایک مضمون شائع کیا ہے:۔

عورتیں جو اپنی شادیاں بچانے کے لیے اجنبیوں کے ساتھ سوتی ہیں

اس پر غور کرنا چاہئے کہ حلالہ والی شادی سے منع کیا گیا ہے

 

پیغمبر نے کہا: اس پر لعنت ہو جو طلاق یافتہ عورت سے اس نیت سے شادی کرتا ہے کہ وہ اپنے سابقہ شوہر کے لیے  حلال ہوجائے اور اس پر بھی جس کے لیے وہ حلال کی گئی۔

http://sunnah.com/abudawud/12/31

کیا یہ کچھ ایسا لگتا ہے کہ جس کو خدا لے کر آئے؟  کیا ممکن منظر نامہ آپ تصور کریں گے کہ آپ کی سابقہ بیوی دوبارہ طلاق لے اور پھر آپ اس سے شادی کریں؟  تمام اغراض و مقاصد کے ساتھ، آپ اسے تیسری طلاق کے بعد ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے۔ اس کو چھوڑ کر زیادہ تر لوگوں کے لیے اس سے نمٹنا بہت دردناک ہے۔

 

مرد طلاق پر کسی بھی قسم کی شرط عائد کر سکتا ہے۔

تعجب کے طور پر اسلام میں آپ اپنی بیوی کو مشروط ناقابل تنسیخ طلاق دے سکتے ہیں۔اگر آپ کہتے ہیں کہ ” اگر تم نے  ایک دفع بھی مزید کینڈی کھائی تو تمہیں طلاق ہے” یہ فیصلہ کن ہے اور پابند ہے اور اسے کالعدم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک جادوئی منتر کی طرح ہے جو آپ کی زندگی پر ہمیشہ کے لیے لٹک جاتا ہے۔ اس کی طرف دیکھیں کہ یہ غریب عورت جس کو اس سب سے گزرنا پڑتا ہے پر کتنے دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ ایسا صرف مشرق وسطی میں عورتوں کے ساتھ نہیں ہوتا۔یہ کینیڈا میں بھی ہوتا ہے۔ میں ذاتی طور پر ایک انسان کو جانتا ہوں جس نے غصے میں اپنی بیوی کو بتایا” اگر تم نے میرے فون کو چھوا تو تمہیں طلاق ہے”۔

 اس فتویٰ میں مرد نے اپنی بیوی کو دھمکی دی کہ اگر تم نے یہ مخصوص موضوع دوبارہ اٹھایا تو اسے طلاق ہوجائے گی۔  لیکن وہ آگے چلی گئی اور اسی بات کو پھر لے آئی۔ تو وہ ڈر گیا اور سوچنا شروع کردیا  کہ آیا وہ واقعی سچ میں یہ کہنا چاہتا تھا جو اس نے کیا، اور آیا شادی ابھی بھی درست ہے، یا اب ان کی طلاق ہوگئی ہے۔ یہ ایک خوفناک صورتحال ہے، تمام اسلام کے گڑ بڑ والے قانون کی پیداوار۔ 

  

سوال:کیا مشروط طلاق کو منسوخ کرنا ممکن ہے؟ مثال کے طور پر کوئی اپنی بیوی سے کہے” تمہیں طلاق ہے اگر تم اس گھر میں داخل ہوئیں.” اور اس سے پہلے کہ اسے گھر میں آنے کا موقع ملتا اسے اپنے کہے پر افسوس ہوا اور  اپنے بیان کو منسوخ کرنا چاہتا ہے۔

جواب: بدقسمتی سے اس طرح کے کلام کو واپس لینا ممکن نہ ہوگا۔ اس طرح، جب وہ گھر میں داخل ہوگی جوکہ بیان میں  مقصود تھا، ایک رجعی طلاق ہوجائے گی۔.

http://seekershub.org/ans-blog/2013/07/07/is-it-possible-to-cancel-a-conditional-divorce/

یہاں فتویٰ سائٹس سے کچھ حقیقی مثالیں ہیں مشروط طلاقوں کی :۔

 

اپنی بیوی سے جھگڑے کے دوران،میں نے اسے بتایا:” میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں اگر تم نے اس معاملے میں دوبارہ بات کی، یہ ہمارے درمیان آخری چیز ہوگی.” کچھ دیر بعد ، میرے اندر ایک سوال کھڑا ہوا بے سکونی کے احساس کے ساتھ:میرا یہ کہتے ہوئے کیا مطلب تھا” ہمارے درمیان آخری چیز”؟ تھوڑا بعد میں، میری بیوی نے دوبارہ اس معاملے میں بات کی، تب میں نے اس کا منہ اپنے ہاتھ سے بند کردیا یہ کہتے ہوئے: کیا میں نے قسم نہیں کھائی تھی کہ اس معاملے کو دوبارہ نہیں کھولنا؟  میں نے اسے چھوڑ دیا اور بیٹھک والے کمرے میں چلا گیا خود سے بات کرتے ہوئے طلاق اب ہوگی۔ پرسکون ہونے اور غور کرنے کے بعد،  مجھے یقین ہے کہ میں نے اصلی طلاق کا ارادہ نہیں کیا لیکن  اسےصرف وہ معاملہ دوبارہ کھولنے  سے روکنے کے لیے ویسے بھی میرا مطلب طلاق نہیں تھا، صرف اس معاملے پر بحث سے اسے دور رکھنے کے لیے، جیسے کہ مجھے پتہ ہے کہ طلاق کا انحصار ارادے پر ہوتا ہے۔

براہ مہربانی مجھے وضاحت کردیں۔

https://islamqa.info/en/147889

میں نے اسے کہا:اگر می ںتمہیں کچھ کرنے کے لیے کہوں جو کہ اللہ کی نافرمانی پر مشتمل نہ ہو اور تم میری فرمانبرداری نہ کرو اس میں،تو تمہیں طلاق ہوجائے گی، اور اگر تم مجھ سے دوسری بار جھوٹ بولو، تمہیں طلاق ہوجائے گی۔.

https://islamqa.info/en/119209

میں نے اپنی بیوی سے کہا: اگر تم نے میرا موبائل فون چیک کیا تمہیں طلاق ہے۔ مجھے پریشانی ہے کہ وہ میرا موبائل فون چیک کرے گی۔ حل  کیا ہے؟

اگر ایک مرد اپنی بیوی سے کہتا ہے: اگر تم میرا موبائل فون چیک کرتی ہو تو تمہیں طلاق ہے، بنیادی اصول یہ ہے کہ رجعی طلاق ہوجائے گی اگر وہ چیک کرے، اور اس کو منسوخ کرنا ممکن نہیں۔اسے اپنی بیوی کو موبائل فون چیک کرنے کے خلاف کرنا چاہئے ۔اگر وہ چیک کرتی ہے،ایک رجعی طلاق ہوجائے گی۔

https://islamqa.info/en/147954

علماء کہتے ہیں کہ تمہیں طلاق کے ساتھ گیمز نہیں کھیلنی چاہئیں اور اسے چوٹی باتوں پر دھمکی نہیں دینی چاہئے۔ لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کرنا، آپ کے پاس ایک مرد ہونے کے ناتے تمام طاقت ہے۔ کیا آپ نہیں سوچتے کے ایک پارٹی کو رشتے میں ضرورت سے زیادہ طاقت دینا خطرناک ہے؟

اسلام کے شادی میں غیر مساوی طاقت پیدا کرنے کے سلسلے میں،

براہ مہربانی  خواتین کو مارنے کے سلسلے میں میری ویڈیو دیکھیں:۔

مرد کسی بھی ذریعے سے خواتین کو طلاق دے سکتے ہیں

طلاق کا زبانی ہونا ضروری نہیں۔ یہ لکھی ہوئی ای میل، ٹویٹ کی ہوئی، کچھ بھی ہو سکتی ہے۔

 

لکھ کر دی گئی طلاق یا  ای میل کے ذریعے یا تحریری پیغام کے ذریعے اسی طرح شمار ہوتی ہے جیسے طلاق کا ارادہ موجودگی میں یا یہ اشاروں کے ہمراہ جو کہ طلاق کے ارادے کو ظاہر کرتے ہوں۔

https://islamqa.info/en/183616

اس کے ساتھ مسلم ملک میں ایک جج یہ حکم دے سکتا ہے کہ حالانکہ اگر اس کا مطلب طلاق دینا نہیں تھا لیکن اس نے ایسے اثر والے الفاظ کہے ہیں، وہ مستقل طور پر طلاق یافتہ ہو چکے ہیں:۔

 

اگر ایک کہے ( اپنی بیوی سے) طلاق پر بحث کے دوران” میں نے تمہیں الگ کیا” یا” میرا تمھارے اوپر کوئی اختیار نہیں ” یا میں نے تمہیں چھوڑ دیا” یا میں نے تمہارا راستہ چھوڑ دیا/جانے کے لیے آزاد ہو”…..پھر طلاق ہوجائے گی۔ اگر البتہ وہ( شوہر) کہے، میرا اپنے بیان سے طلاق کا ارادہ نہیں تھا، قانون کی عدالت میں اس کا دعوا سچ تسلیم نہیں کیا جائے گا( کیونکہ اس نے یہ بیان طلاق پر بحث کے دوران دیا)۔

( 1/375 الفتویٰ الہندیہ)

http://islamqa.org/hanafi/daruliftaa/7649

بے شک علماء ہو سکتا ہے عدم اتفاق کریں۔ جج ہوسکتا ہے اتفاق نہ کرے۔ آپ کا سارا رشتہ اور بچے تمام کسی جج کی تشریح اور قدیم الفاظ  کے  توازن میں پھنس جائیں گے جو ایک مکمل طور پر مختلف وقت اور جگہ میں ادا کئے گئے ۔ یہ کتنے دکھ کی بات ہے۔ اس کا موازنہ جدید سیکولر قانون سے کریں جیسا کہ مثال کے طور پر کینیڈا میں آپ کو ایک سال کے لیے علیحدہ ہونے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ آپ طلاق دے سکو( کیونکہ بہت سے جوڑے اس عرصے میں دوبارہ ایک ساتھ مل جاتے ہیں)۔ کونسا خاندان کو سہولت فراہم کرتا ہے اور کونسا  علیحدگی اور دکھ کی طرف لے جاتا ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟

 

طلاق کسی بھی وقت ہو سکتی ہے

یہ جب آپ کی بیوی حاملہ ہے تب  ہو سکتی ہے، یہ تب ہو سکتی ہے جب وہ  حیض سے ہو( یہاں اس پر کچھ عالمانہ اختلافات ہیں)۔ کوئی بھی اس عرصے کے دوران دی گئی طلاق درست ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث اس کی وضاحت کرتی ہے:۔

 

میں نے ابن عمر سے پوچھا ( الله ان پر راضی ہو) ان عورتوں کے بارے میں جن کو طلاق ہوگئی ہے۔اس نے کہا: میں نے اسے طلاق دی جب وہ حیض کی حالت میں تھی۔ یہ عمر کو ذکر کیا گیا تھا اور اس نے اس کا الله کے نبی سے ذکر کیا جس پر انہوں نے کہا: اسے حکم دو کہ اسے واپس لے لے اور جب حیض کی حالت ختم ہوجائے تو ، پھر( وہ اسے پاکیزگی کی حالت میں طلاق دے سکتا ہے) اس (ابن عمر) نے کہا  تو میں نے اسے واپس لے لیا ،پھر اسے پاکیزگی کی حالت میں طلاق دی۔ میں( روایت کرنے والے نے) نے کہا: کیا تم نے اس طلاق کو شمار کیا جو تم نے حیض کی حالت میں ادا کی؟ اس نے کہا : میں اسے کیوں شمار نہ کرتا؟ کیا میں بے بس یا بے وقوف تھا؟

https://sunnah.com/muslim/18/15

حمل کے دوران طلاق درست طلاق ہے اور اسی طرح شمار ہوتی ہے”۔”

https://islamqa.info/en/106285

علماء نے جب عورت اپنے ماہانہ حیض سے ہوتی ہے تب ہونے والی طلاق کے بارے اختلاف کیا ہے، اور اس پرلمبے مباحثے ہوئے تھے کہ آیا کہ طلاق شمار ہوگی یا نہیں۔ علماء کی اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ وہ ایسے ہی شمار ہوگی اور اسے طلاق ہی مانا جائے گا۔ یہ اکثریتی علماء کا موقف ہے بشمول چار اماموں کے: احمد،الشافی،مالکی اور ابو حنیفہ۔

https://islamqa.info/en/72417

شیخ السلام ابن تیمیہ کی رائے کہ حیض کے وقت دی گئی طلاق شمار نہیں ہوتی

https://islamqa.info/en/72417

حیران کن طور پر،ایک عورت کو طلاق ہو سکتی ہے حتی کے اگر مرد اسے نہ بتائے

1)https://islamqa.info/en/31778

ایک طلاق شدہ عورت کے حقوق

 

جب عورت اپنے انتظار والے عرصے میں ہوتی ہے، وہ محافظت اور قیام کی حقدار ہے۔ ایک دفع جب وہ مستقل طور طلاق شدہ ہوجاتی ہے (تیسری دفع). تب نہیں:۔

 

فاطمہ بنت قیس نے کہا: ” میرے شوہر نے الله کے پیغمبر کے وقت مجھے طلاق دی تین دفع۔ الله کے پیغمبر نے کہا : ‘ تمہارے پاس ٹھہرنے اور یا محافظت کا کوئی حق نہیں”۔

(ابن ماجہ)

 

اگر ان کے ایک ساتھ بچے ہیں ، پھر وہ دو سال کے لیے دودھ پلانے اور اپنے بچوں کے لیے محافظت کی حقدار ہے۔

2)https://islamqa.info/en/82641

اختتامیہ

اسلام کے قوانین بے ضابطہ ہیں،  اچھی طرح سوچے ہوئے نہیں، اور یہ رشتے میں تمام طاقت مرد کو دیتے ہیں۔ یہ شادی کو غیر مستحکم بناتے ہیں اور غصے میں کہے ہوئے چند الفاظ سے آسانی سے ٹوٹ جانے والا۔ وہ ایک  ہنسی خوشی والی شادی کو سہولت نہیں دیتے۔ یہ بہت زیادہ تکلیف اور دکھ پیدا کرتے ہیں ایک رشتے میں  غصے میں دی گئی طلاق کی وجہ سے،بعد میں افسوس۔ دوبارہ شادی کرنے کے لیے شادی  اور دوسرے مرد کے ساتھ مباشرت کا قانون ہوسکتا ہے بیویوں کو غصے میں طلاق دینے سے روک سکے، یا اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ شاید اپنی بیوی کو کبھی واپس نہ حاصل کرسکے۔ خود سے پوچھیں، کس کا زیادہ امکان ہے؟  یہ کے کائنات کا سپریم خالق ان قوانین کو لے کر آیا ، یا ساتویں صدی سے ایک آدمی؟

 

 براہ مہربانی یہ بھی دیکھیں:۔ 

36Shares

References   [ + ]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.