خدا کے لیے گھڑی ساز ہونے کی دلیل

خدا کے وجود کے دلائل میں سے ایک دلیل بذات خود فطرت ہے. یہ حقیقت کہ ہمارے پاس آنکھیں ہیں, پھیپھڑے،دماغ,اعضاء،اور کام کرتا جسم ہے۔ہم خوف اور حیرت سے اپنے جسموں اور کائنات کودیکھتےہیں اور کہتے ہیں “یقیناایک خدا ہوگا”۔

لاسکی میکانک دلیل( جسے گھڑیاں بنانے والا قیاس یا بعض اوقات زہین نمونہ کہا جاتا ہے)دعوہ کرتا ہے کہ اگر آپ ایک گھڑی کو دیکھتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ اسکا کوئی بنانے والا ہوگا۔اسی طرح جب آپ فطرت کی طرف دیکھتے ہیں اور بہت خصوصی طور پر، ہم انسانوں کی پچیدگیوں کی طرف، تو آپ فرض کرسکتے ہیں کے ایک تخلیق کار ہے یہ گھڑی کی طرح ہے۔

 

 

 

جیبی گھڑی منجانب پیٹر ملر

                                               خود بخود پیدا ہونا

اس مضمون میں، میں خود بخود پیدا ہونے کو موضوع نہیں بناؤں گا،جس طرح پہلی دفع زندگی وجود میں آی۔جہاں تک ہمیں معلوم ہے، کیچڑ والا اولین شوربہ جو ابتدائی زمین پر وجود رکھتا تھا،کسی چیز نے  زندگی کو شروع کرنے کے لیے چنگاری دی.یہ آر این اے کے طور پر شروع ہوئی،پھر ڈی این اے جو کہ تمام زندگی کی بنیاد ہے۔سائنسداں سن دو ہزار نو میں آراین اے کے حالات کی نقل تیار کرنے میں کامیاب ہوگے تھے جو وہ سمجھتے تھے ابتدائی زمین سے ملتے تھے،اور ڈی این اے کی نقل تخلیق کرنے کے لیے تحقیق جاری ہے۔ یہاں اس کے ساتھ دوسرے امکانات بھی ہیں،کہ زندگی زمین سے باہر شروع ہوئی اور زمین پر ایک سیارچے کے ساتھ آئی۔

Tardigrade model by Eden Janine and Jim ٹارڈیگریڈ منجانب ایڈن اور جم

درحقیقت ہمیں ایسی مخلوقات (سست رفتار)ملی ہیں جو خلاء کی گہرائیوں میں بھی زندہ رہ سکتی ہیں۔ یہ سوال کو حل نہیں کرتیں لیکن حالات کو تبدیل کردیتی ہیں۔

ہمیں ایماندار رہنا چاہے کہ ایک یہ بھی امکان ہے کہ ایک خدا بھی شامل تھا جس نے زندگی تخلیق کی۔یہ ایک امکان ہے۔لیکن اس کہ یہ مطلب نہیں کے دنیا کا کوئی بھی مذہب سچا ہے۔ وہ تمام پھر بھی غلط ہو سکتے ہیں۔ اس ہستی کی ہوسکتا ہے کوئی شخصیت ہو یا نہ ہو اور ہوسکتا ہے  انسانیت کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت نہ کی ہو(ایک خیال جسے خدا پرستی یا موحد پرستی کہتے ہیں)۔ اس خالق کی  شخصی خدا کی بجاے ایک طاقت کے طور پر بھی وضاحت کی جا سکتی ہے بجاے۔ موحد پرستی سے آگے بڑھنے کے لیے اور دیکھنے کے لیے کہ اگر  کوئی مخصوص خدا سچا ہے(جنووہ یا اللہ)، ہمیں ان کی مقدس کتابوں اور دعووں کہ مشاہدہ کرنا ہوگا۔

 

                     اس دلیل کے ساتھ پہلا مسلہ ارتقاء ہے

ارتقاء اس دلیل کو تباہ کردیتا ہے۔ارتقاء کا عمل جس نے ہمیں بہتر بنایا اور تشکیل دیا اربوں سالوں کے دوران فطری انتخاب کے عمل سے جو کے شاید گھڑی بنانے والے قیاس کے خلاف سب سے بڑی دلیل ہے۔ارتقاء کے لے بہت زیادہ ثبوت ہیں۔ابھی تک کے مطابق،ہم ارتقاء کو بہت اچھے طریقے سے سمجھتے ہیں اور ہمیں مزید “ذہین ڈیزائن” پر انحصار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ان دیے گئے نکات کو سمجھنے کے لیے، آپ کو ارتقاء کی چند بنیادی بآتیں سمجھنی چاہیں(فطری انتخاب اور اتفاقی تبدیلی)۔

 

اتفاقی تبدیلی ڈی این اے میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔یہ یا تو ماحول کی طرف سے ہوتی ہیں یا کاپی کرنے کے عمل کے دوران جب یہ نقل کرتے ہیں تو یہ ٹھیک طرح سے کاپی نہیں کرتے۔ یہ ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے سے وقت کے ساتھ حیاتیات تبدیل ہوتی ہیں۔ جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے،وہ لڑکی یا لڑکا آدھے کروموسوم اپنی ماں کے لیتا ہے اور آدھے اپنے باپ کے۔ ڈی این اے کا مجموعہ بچے میں تبدیلی کہ باعث بنتا ہے۔ اگر کسی ایک بچے کو کوئی بھی چھوٹا فائدہ ہے،اس کا مطلب ہے کہ اس کا ڈی این اے بہت حد تک اگلی نسل میں منتقل ہوگا۔ وقت کے ساتھ، یہ آبادی کو تشکیل دیتا ہے بعض خصوصیات کا انتخاب کر کے۔یہ گیارہ منٹ کی ویڈیواس کی اچھی طرح وضاحت کرتی ہے۔ اس سادہ خیال کو اس مضمون کو پڑھنے سے سے پہلے سمجھنا اہم ہے۔

اگر ہم بحث کر رہے ہیں کہ انسان اور کائنات کی توسیع کو ذہانت کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تو ہم یہ درج ذیل کیوں دیکھتے ہیں؟

جب آپ اس کو پڑھیں تو اپنے آپ سے پوچھیں: کیا میں کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جسے ارادی طور پر ڈیزائن کیا گیا،یا یہ ایسا زیادہ لگتا ہے کہ اندھی  احساسات سے عاری فطری قوت اسے تشکیل دے رہی ہے؟

 

                       ہمارے ڈیزائن میں خامیاں کیوں ہیں؟

خدا ہماری آنکھوں کو اس لیے کیوں ڈیزائن کرے گا کہ اس کا ایک تاریک نقطہ ہو؟ اپنا تاریک نقطہ یہاں تلاش کریں۔اگر ہم انسانی جسم کا ایک کار کے ساتھ موازنہ کریں،اور کار میں خامیاں ہوں،چاہے بڑی یا چوٹی،ہمیں مکمل طاقتور مکمل عقل مند تخلیق کار کے بارے میں حیرانگی ہوگی۔کاروں میں تاریک نقطہ تخلیق کا ایک نقص ہے۔ اب ٹیکنالوجی کے ساتھکچھ کاروں میں سے تاریک نقطہ ختم کردیا گیا ہے کیمروں کے استعمال کے ذریعے۔

 

VisionWeb تاریک نقطہ منجانب

چھوٹے،گول حصے میں جہاں آپٹک اعصاب ریٹنا سے ملتے ہیں،وہاں کوئی سلاخیں یا کونز نہیں ہیں۔اگر کسی چیز سے روشنی اس نقطے پر پڑتی ہے،تو بنیادی طور پر تصویر پوشیدہ رہتی ہے۔اس حصے کو آپٹک ڈسک کہا جاتا ہے،یا تاریک نقطہ۔ درحقیقت یہ ایک بلیک ہول ہے ریٹنا کی پروجیکشن سکرین میں۔

نظر کی فیلڈ میں عام طور پر یہ لاپتا رقبہ نمایاں نہیں ہوتا۔دماغ اس تاریک نقطے کو رنگوں اور ارد گرد کے ماحول کی سانچے کے مطابق بھر دیتا ہے۔یہ ایک مختلف فاصلے یا اینگل سے ایک سیکنڈ کے حصے سے موصول ہونے والی معلومات کو استعمال کرتا ہے اور مخالف آنکھ جو دیکھتی ہےایک مکمل اور بلا تعطل تصویر کو تخلیق کرنے کے لیے۔

تمام جانوروں میں تاریک نقطے نہیں ہیں۔ یہ ایک عالمی مسلہ نہیں ہے۔یہ جس طرح ہمارا ارتقاء ہوا ہے اس کی ضمنی پیداوار ہے کے ہمارا ایک تاریک نقطہ ہے۔

ریڑ کی ہڈی والی آنکھ میں،اعصابی ریشہ ریٹنا سے پہلے گزرتا ہے،کچھ روشنی کو بلاک کرتے ہوئے اور تاریک نقطہ تخلیق کرتے ہوئے جہاں ریشہ ریٹنا میں سے گزرتا ہے اور آنکھ سے باہر جاتا ہے۔آکٹپس کی آنکھ میں،اعصابی ریشہ ریٹنا کے پیچھے سے گزرتا ہے،اور روشنی کو بلاک نہیں کرتا یا ریٹنا میں خلل نہیں ڈالتا۔سرپایا آنکھ مخالف سمت سے “وائرڈ” ہے،خون اور اعصابی برتن ریٹنا کے پیچھے سے داخل ہونے کے ساتھ،بجائے اس کہ کے سامنے سے جیسا کے ریڑھ کی ہڈی والی میں۔اس کا مطلب ہے کہ  سرپائے کا تاریک نقطہ نہیں ہے

فطرت کے کچھ حصے بغیر مقصد کے لگتے ہیں-مثال کے طور پر مرد کے اپر نپپلز۔کیا خدا نے مردوں کے اوپر نپپلز شہوت کے حصے کے طور پر بنائے؟ جیسا کے مجھے بتایا گیا،کہ مردانہ نپپلز جنسی خوشی کی ترغیب کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں لیکن میں نے ابھی اس کو صحیح سے پرکھا نہیں ہے! ارتقاء اس کی آرام سے وضاحت کرسکتا ہے،اگر جسم کے حصے فائدہ دیتے ہیں یا ماضی میں کسی موقع پر ان کہ فائدہ تھا،تو وہ رہیں گے جب تک کہ اس کے مخالف منتخب ہوں( جیسا کہ نقصان پوھنچانا اور بچاؤ اور پیدائش کے عمل کے امکانات کو کم کرنا)۔

فطرت میں قسموں کی آنکھیں دیکھنے سے،ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ماحول کی طرف سے تشکیل کیئے جانے اور بتدریج بہتری کی پیداوار ہیں۔ وہاں کوئی مکمل طاقتور ہستی بیٹھی نہیں سوچ رہی “ہمممم  چلو مجھے انسان ڈیزائن کرنے دو تاریک نقطے کے ساتھ”۔

 

                       خدا بہت زیادہ غلطیاں کرتا لگتا ہے

جسم کے بعض حصے جیسا کے پروسٹیٹ گلنڈس اور چھاتیاں کینسر کا شکار ہوتی ہیں۔ ناف کی ہڈی بچوں کا دم گھونٹ سکتی ہے،اور امنیوٹک بینڈز جو بچہ دانی کے اندر واقع ہوتے ہیں امنیوٹک کے ممکنہ جزوی جوش کی وجہ سے جنین یا حمل کو ٹکرے ٹکرے کرسکتے ہیں۔

بہت سے بچے بچہ دانی کے راستے میں اٹک جاتے ہیں اور انہیں طبی مداخلت کی ضرورت پڑتی ہے بچانے کے لیے۔

 

ایکٹوپک حمل( حمل کا اپنی جگہ سے ہٹے ہونا) سب سے عام وجہ ہے حمل سے متعلقہ اموات کی حمل کی پہلی سہ ماہی میں۔امریکہ میں سالانہ چالیس  سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔حمل سے متعلقہ ہر دس فیصد اموات میں یہ واقع ہوتی ہیں۔  البتہ فی ایکٹوپک حمل کی اموات کی تعداد ڈرامائی طور پر گھٹ رہی ہیں فوری تشخیص اور علاج کی وجہ سے۔

 

National Library of Medicine سب سے پہلے بڑے آپریشن کا عکس

ایک اور مثال-کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ بچوں کے سر کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ طبی جراحی کی چمٹی اور سی سیکشن سے پہلے،کتنی عورتیں حمل کے دوران وفات پا جاتی تھیں؟

 

شاید پہلا تحریری ریکارڈ جو ہمارے پاس ہے ایک ماں اور بچے کا بڑے آپریشن سے بچنے کا وہ سوئٹزرلینڈ سے آتا ہے پندرہ سو عیسوی میں جب سور کے حمل کو دیکھنے والے.جیکب نفر، نے اپنی بیوی پر آپریشن سر انجام دیا۔ کافی دنوں کے لیبر میں رہنے اور تیرہ دائیوں سے مدد کے بعد، عورت اپنے بچےکو باہر نکلالنے میں ناکام تھی۔

صرف آر ایچ کی بیماری کی مثال کی طرف دیکھ لیں۔ کتنی عدم مطابقت محض  خون کی قسم میں ایک شوہر اور بیوی کے درمیان وجہ بن جاتی ہے بیوی کے مدافعتی نظام کے بعد کے تمام جنین پر حملوں کی پہلے بچے کی پیدائش میں خون کے بھاؤ کی وجہ سے؟ طبی مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے بعد کے حمل کی کامیابی کے لیے۔

یہاں بہت سے حالات ہیں جو آٹو امیون سے متعلقہ حمل کے نقصان کی طرف لے جاتے ہیں جیسا کہ رحم کا ہٹ جانا اور بیضہ دانی کے کئی حصوں پر مشتمل بیماریاں۔ان تمام کے لیے طبی مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے جو حال ہی میں تیار ہوئی ہے،اس سے پہلے اس سے متاثرہ عورت کا اسقاط حمل ایک  معمول تھا۔ایسی عورتوں میں  حمل کو دعاؤں کی کوئی مقدار نہیں بچا سکتی تھی۔

ہیگر نازل کی گئی عبارتوں کی کہانیوں میں اور زاچریاس کی بیوی،ہمیں بتایا گیا تھا کے انہیں ایک بچہ دیا گیا تھا زیادہ عمر اور بانجھ پن کے باوجود  سواے پریکٹس میں طبی مداخلت نے کسی بھی مقدار کی دعاؤں اور تقویٰ سے زیادہ کام کرکے دکھایا ہے۔

ارتقاء سیدھا پیٹ کے رستے بچہ نکلنے میں کافی بہتر کرسکتا تھا۔ لیکن افسوس یہ پھر سے شروع نہیں ہوسکتا یہ صرف چھوٹی بتدریج تبدیلیوں کے ساتھ پہلے سے موجود خلیوں کے ساتھ کام کرسکتا ہے۔ یہ  نئے سرے سے دوبارو ڈیزائن نہیں کرسکتا، اس کو جو اس کے پاس ہے اسی کے ساتھ کام کرنا ہے۔

میں بچپن میں ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ خدا نے انسانوں کو ایسا کیوں بنایا کے وہ آسانی سے دم گھٹنے سے مر جائیں۔ چھوٹی چیزوں جیسا کے مونگ پھلی سے۔ یہ پھر ایک سنگین نقص لگتا ہے۔

 

ان خطوں میں جہاں ملیریا بہت عام ہے، لوگ بعض جین حاصل کرتے ہیں جو اس بیماری کے خلاف مدافعت دیتے ہیں۔جب دونوں والدین کے پاس یہ جین ہوتے ہیں, تو ان کی اولاد کے لیے نتائج بہت خوفناک ہوسکتے ہیں- انھیں سکل سیل انیمیا ہوجاتا ہے۔ والدین کے مشترکہ مدافعت حاصل کرنے’ کے ساتھ اور جیسے ڈی این اے اولاد کو کاپی ہو کر ٹرانسفر ہوتا ہے اور یہ حقیقت کہ دو مشترکہ جین کے نتیجے میں بچے میں نقصان دہ جین آ جاتا ہے۔

 

سکل سیل کی بیماری کی علامات اور نشانیاں عام طور پر ابتدائی بچپن میں شروع ہوتی ہیں۔ اس خرابی کی خصوصیت میں بہت کم تعداد میں سرخ خون کے خلیوں ،بار بار انفیکشن اور درد کی متواتر قسطیں شامل ہیں۔ علامات کی شدت ایک شخص سے دوسرے شخص سے مختلف ہوتی ہے۔کچھ لوگوں کو ہلکی علامات ہوتی ہیں، جبکہ دوسروں کو عموما ہسپتال میں رکھ لیا جاتا ہے مزید سنگین پچیدگیوں کے لیے۔

ہم پھر سوچتے رہ گیئے ہیں،کیا خدا نے جان بوجھ کر زندگی کو ایسے ڈیزائن کیا کہ جو کہ بچوں میں جینیٹک نقص لے کر آئے ان کے والدین کی ایک بیماری کے خلاف قوت مدافعت کی وجہ سے؟ ایسا تصور بہت چونکا دینے والا ہے خدا جان بوجھ کر چیزوں کو ایسے بنائے۔ یہ اسے  برائی کے مسلے میں لے جاتا ہے۔ ایک رحم دل خدا دنیا کیوں تعمیر کرے گا جس میں بہت زیادہ تکالیف ہوں؟ لیکن یہ ایک مختلف دلیل ہے۔

 

جانوروں کو زندہ رہنے کے لیے گوشت کیوں کھانا پڑتا ہے اور دوسرے جانوروں کو نقصان کیوں پھنچانا پڑتا ہے؟

جیسا کہ میرے دوست حسن رضوان نے کہا

خدا نے خالی صفحے سے شروع کیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسی مخلوقات تخلیق کرے گا جنھیں زندہ رہنے کے لیے کاٹنے، چبانے  ہضم کرنے کی ضرورت پڑے۔پھر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں ” ایک دوسرے” کو کاٹنا چبانا اور ہضم کرنا ہے۔ یہ مجھے کافی عجیب لگتا ہے۔اگر میرے پاس لامحدود طاقتیں ہوتیں اور میں مخلوقوں کی دنیا تخلیق کرنے لگتا تو اگر وہ ایک دوسرے کو نہ کھاتے تو میں انہیں مار نہ دیتا۔

جانور دوسرے جانوروں کی سب سے زیادہ سفاکانہ طریقوں سے زندہ چیر پھاڑ کرتے ہیں۔ زیادہ تر وقت جب وہ زندہ خوراک بن رہے ہوتے ہیں ان کے لیے کوئی بےہوشی کی دوا بھی نہیں ہوتی۔ وہ بس اس تکلیف سے گزرتے ہیں۔ اور وہ بہت زیادہ تکلیف سے گزرتے ہیں۔ پالتو جانور رکھنے والے لوگ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ   جانور درد محسوس کرتے ہیں اور ان کے بھی احساسات ہوتے ہیں۔

بہت سے دودھ دینے والے جانوروں،بشمول انسانوں کے لیے وٹامن بی12 دوسرے جانوروں کے گوشت سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ ہماری ترقی کے لیے ضروری ہے۔ہمیں آگے بڑھنے کے لیے جانوروں کا گوشت استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ سبزی خوروں کی خوراک میں بہت خامیاں ہیں۔

 

Bloodthirst by Stuart Richards

ڈارون جو خود خدا پر یقین رکھتا تھا اس نے اس پر غور کیااور اسے اس نظریے کے ساتھ ایک مسلہ نظر آیا

میں اپنے آپ کو اس چیز کا قائل نہیں کر سکتا کہ ایک رحمان اور قادر مطلق خدا نے ایک قسم کہ نیولے کو تخلیق کیا ہوگا اس واضح نیت کے ساتھ کہ ان کی خوراک سنڈیوں کے زندہ اجسام میں ہو،یا یہ کہ ایک بلی کو چوہے کے ساتھ کھیلنا چاہیے۔- چارلس ڈارون

جانوروں کی کچھ جماع کی رسومات بھی یکساں طور پر پریشن کن ہیں۔

نر کھٹمل اپنے نطفے کو”تکلیف دہ اندراج” کے طریقہ کار سے داخل کرتا ہے جہاں وہ مادہ کے معدہ میں گھونپتا ہے اور نطفہ مادہ کے خون کے بہاؤ کے ساتھ سفر کرتا ہوا نطفہ دانی میں چلا جاتا ہے اور اس کے بعد مادہ کی بچہ دانی میں۔

Bed Bugs Mating byAFPMB کھٹمل جماع کرتے ہوۓ

مہروں کے ساتھ،نر زبردستی ننھے بچوں کے ساتھ زیادتی کرتا ہے اور بعض اوقات اسے کچل کر مار بھی دیتا ہے۔

Who’s your Daddy by Malingering

نر شیر جو ایک غرور پر قبضہ کرلیتے ہیں’ پچھلے باپ سے تمام بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ یہاں فطرت میں ظلم اور تشدد کی مثالوں پر مثالیں ہیں۔کیا ہمیں اس بات پر یقین کرنا ہے کہ ایک رحم دل خدا نے دنیا کو اس انداز سے ڈیزائن کیا ہے؟

دنیا ظالم،مضحکہ خیز،ناقابل عمل اور زندگی کے بر عکس ہے۔ ایک ناقص،ظالم دنیا سے مراد ایک ناقص یا ظالم خالق ہے۔ اگر آپ کا ماننا ہے کہ خدا نے ہمیں ذہانت سے اس انداز میں ڈیزائن کیا ہے، تو آپ کو اس کی لازمی وضاحت کرنی چاہیے کیوں خدا ہماری زندگی کی ظالم اور پریشان کن حقیقتوں کو پیدا کرے گا۔ بلکل کوئی خالق نہیں ہے جو ایک ایسا ظالمانہ نظام ڈیزائن کر رہا ہے۔ یہ مثالیں ارتقاء کے عمل کے ساتھ آئی ہیں۔ ارتقاء ایک اندھا گھڑی ساز ہے۔ یہ عمل زندگی میں کچھ پریشان کن اور دردناک حقیقتوں کی طرف لے جاتا ہے۔ ماضی میں ہم نے مذھبی خرافات کے ذریعے ان چیزوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کی،جیسا کے کہنا کہ پیدائش کی تکلیف اس وجہ سے ہے کہ حوا نے اپنے شوہر کی نافرمانی کی،لیکن آج اب ہم بہتر جانتے ہیں،کہ اندھی احساسات سے عاری ارتقاء کی طاقت ہے جس نے ہمیں اس طرح تشکیل دیا جس طرح آج ہم ہیں۔

                                                      ایک جواب

یہ ان دلائل کے عام جوابات ہیں:۔

یہ ایک امتحان ہے

ہم نہیں جانتے خدا نے ایسا کیوں کیا

ملحد مغرور ہیں

یہ ایک امتحان ہے

 

یہ آگیا تمہارے پاس۔ مسلہ حل- یہ ایک امتحان ہے۔

                                                                                                                                                     :حوالہ جات

-براہ مہربانی درج ذیل ویڈیو دیکھیں

0Shares

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.