خواتین،اسلام میں کمتر نوع

اسلام مردوں کی طرف سے مردوں کے لیے ایک مذہب ہے۔ خواتین کو حقوق دینے کا اسلام کا بیانیہ سچ نہیں ہے۔ اسلام نے ہو سکتا ہے عورتوں کو کچھ حقوق دیے ہوں جو ان کے پاس نہیں تھے، لیکن اس نے اس وقت کے حساب سے ان کے حقوق منجمد کردیے لہٰذاوہ مزید کبھی حاصل نا کرسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اسلام میں بہت سے حقوق یکطرفہ ہیں کیا یہ خدا کے لیے زیادہ معقول نا ہوتا کے وہ عام اصول بھیجتا جیسا کے” خواتین کے ساتھ اچھا سلوک کرو جو کہ ہم ہر ثقافت پر لاگو کرسکتے بجائے سخت قوانین کے جو جلد ہی جدید معاشروں میں فرسودہ بن جائیں۔

Niqabi Girl

شروع کرتے ہوئے ، یہاں ایک دلچسپ اقتباس ہے جو پوری دلیل کا خلاصہ بیان کرتا ہے

 

اگر مجھے کسی اور کے سامنے سجدہ کرنے حکم دینا ہوتا تو میں خواتین کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کے سامنے سجدہ کرو،ان کے اوپر خصوصی حقوق کی وجہ سے جو الله کی طرف سے شوہروں کو دیئے گئے ہیں

 (Abu Dawud, 2140)

صرف مردوں کو مخاطب کرنے والی آیات

پیغمبر محمد کی بیوی ام سلمہ نے اصل میں اپنے شوہر سے پوچھا ہمارا قرآن میں ذکر مردوں کی طرح کیوں نہیں ہے؟  جس کے لیے قرآن عورتوں کے لیے کچھ آیات کے ساتھ آیا:۔

امام احمد نے ریکارڈ کیا کہ ام سلمہ، الله ان پر راضی ہو،پیغمبر کی بیوی نے کہا،” ایسا کیوں ہے کہ قرآن میں مردوں کی طرح ہمارا ذکر نہیں ہے؟”۔

( 33:35قرآن کی تفسیر )

عمر بن دینار سے روایت ہے:۔
ام سلمہ کے بچوں میں سے ایک آدمی، ام سلمہ سے سنا کہ اس نے کہا: ” اے الله کے رسول! میں نے الله کو خواتین اور ہجرت کے بارے میں ذکر کرتے نہیں سنا”۔

جس کے جواب میں قرآن کی یہ آیات آئیں:۔

 

تو عالی مرتبہ اور مبارک خدا نے یہ آیت نازل کی
میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ہرگز ضائع نہیں کروں گا خواہ
وہ مَرد ہو یا عورت
 (3:195).”

بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے

( 33:35قرآن )

گواہی- ایک مرد یا دو عورتیں؟

قرآن میں ایک عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر ہے:۔

اوراپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کر لو تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے

2:282 قرآن)

باالفرض اگر وہ بھول جائے تو؟ واہ ،اللہ، تم نے ایسا کیوں کہا؟ کیا عورتیں احمق ہیں یا بھول جانے والی؟ اصل میں پیغمبر محمد ہمیں ان آیات کی وضاحت کرتے ہیں:۔

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے آدھے کے برابر نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی تو ان کی عقل کا نقصان ہے ۔

( 2658 بخاری)

آہ ،ٹھیک ہے،لہذا ہم جانتے ہیں الله اور محمد کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خواتین احمق ہیں۔

ہمسفر کا نظم و ضبط

قرآن کے مطابق، تو اسے اس کے شوہر کی جانب سے  مارا پیٹا جا سکتا ہے صرف اکھڑ مزاج ہونے پر یا اس کے لیے اس کی نافرمانی کے خوف پر۔

ایک عورت بدلہ چاہتی تھی( کیونکہ قرآن آنکھ کے بدلے آنکھ تجویز کرتا ہے) اپنے شوہر کے اسے تھپڑ مارنے کے بعد، اور دیکھیں کیا ہوا:۔

 

اس وقت کے قریب جب بدلے کی آیات مسلمانوں کے درمیان نازل ہوئیں، ایک عورت نے اپنی بیوی کو تھپڑ مارا۔ وہ پیغمبر کے پاس گئی اور کہا: ” میرے شوہر نے مجھے تھپڑ مارا ہے اور مجھے بدلہ چاہئے”۔تو اس نے کہا: ”  جوابی کاروائی ہونے دو”۔ اور وہ ابھی اس کے ساتھ نمٹ رہے تھے،الله، وہی بلند ہے، نے وحی نازل کی( مرد عورتوں پر نگہبان ہیں،کیونکہ الله نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی) ۔جس پر  پیغمبر، الله ان پر رحمت فرمائے،نے کہا:” ہم کچھ اور چاہتے تھے اور میرا خدا کچھ مختلف چاہتا تھا۔  اے بندے،اپنی بیوی کو لے ہاتھ سے پکڑ کر ۔

(Asbab Al Nuzul by Wahidi for 4:34)

مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں، پس نیک فرمانبردار عورتین خاوند کی عدم موجودگی میں بہ حفاﻇت الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وه تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ بڑی بلندی اور بڑائی واﻻ ہے

4:34 قرآن)

ازدواجی حقوق

ایک عورت کو اپنے شوہر کی جنسی پیش قدمی مسترد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر وہ اپنے شوہر کی جنسی پیش قدمی کو مسترد کرتی ہے فرشتوں کی جانب سے ساری رات اس پر لعنت ہوتی ہے:۔

ابو ہریرہ سے روایت ہے:۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا ، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا اور مرد اس پر غصہ ہو کر سو گیا ، تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں

(بخاری 3237, بخاری)

اور اگر وہ کھانا پکا رہی ہو تو اسے جو وہ کر رہی ہے چھوڑنا ہوگا اس کے ساتھ مباشرت کرنے کے لیے:۔

اگر مجھے کسی کو الله کے سوا سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا، میں خواتین کو اپنے شوہروں کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا۔ اس کی قسم جس کے قبصے میں میری جان ہے! کوئی عورت الله کی طرف سے دی گئی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتی جبتک کہ وہ اپنے شوہر کی ذمہ داری پوری نہیں کرتی۔ اگر وہ اس سے پوچھتا ہے(مباشرت کے لیے) اگر وہ اونٹ کی کاٹھی پر بھی ہے اسے انکار نہیں کرنا چاہئے۔
(ابن ماجہ)

اس کے علاوہ دیکھیے میرا  مضمون اسلام میں ازدواجی عصمت دری

اسے رمضان میں رہ جانے والے روزوں کے بدلے اس(شوہر) کی اجازت کے بغیر اختیاری روزے رکھنے کی بھی اجازت نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے وہ مباشرت کرنا چاہتا ہو۔ عائشہ نے کہا اسے سارا سال رمضان کے روزے پورے کرنے کے لیے انتظار کرنا پڑا کیونکہ محمد کو ” اس کی ضرورت تھی”۔

 

عائشہ سے روایت ہے:۔ جو روزے رمضان سے مجھ پر رہ جاتے تھے میں شعبان کے  کے مہینے کے علاوہ پورے نہیں کرتی تھی، الله کے رسول کے انتقال سے پہلے تک۔

(ترمذی)

یہ روایت تھی کہ عائشہ نے کہا:۔ رمضان سے میرے روزے مجھ پر رہتے ہوتے اور میں تب تک ان کو پورا نا کرتی جب تک شعبان نا آجاتا۔

(نسائی)

یحییٰ نے مجھے بتایا مالک سے یحییٰ ابن سعد سے ابو سلمان سے کہ اس نے عائشہ کو کہتے سنا، پیغمبر کی بیوی، الله ان پر رحمت کرے، کہا”  میرے رمضان سے قضا روزے رہتے ہوتے اور میں شعبان کے آنے سے پہلے انہیں نا رکھ پاتی۔

(مالک)

یہ روایت تھی کہ ابو سلمہ نے کہا:۔

میں نے عائشہ کو کہتے سنا:۔ میرے رمضان کے مہینے سے قضا روزے رہتے ہوتے تھے اور میں شعبان کے آنے تک ان کو پورا نہیں کرتی تھی۔

(ابن ماجہ)

ابو ہریرہ نے روایت کی کہ: ۔

پیغمبر نے کہا: ” ایک عورت رمضان کے علاوہ کسی دن روزہ نا رکھے جب اس کا شوہر موجود ہو ، سوائے اس کی اجازت کے۔

(ترمذی)

عائشہ سے روایت ہے:۔

بعض اوقات  رمضان کا روزہ مجھ سے چھوٹ جاتا ۔ شعبان سے پہلے اس کی قضاء کی توفیق نہ ہوتی ۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغول رہنے کی وجہ سے تھا ۔

( 1950 بخاری)

طلاق

اسلام میں عورت طلاق نہیں دے سکتی صرف مرد دے سکتا ہے:۔

کوئی بھی عورت جو اپنے شوہر سے  طلاق مانگتی ہے جب یہ بلکل ضروری نہیں، جنت کی خوشبو اس پر حرام کردی جائے گی۔

( 2055 ابن ماجہ)

جنت کی خوشبو نا سونگھنے کا دوسرے لفظوں میں مطلب ہے کہ وہ جنت نہیں جائے گی۔ عورت اپنی شادی کو منسوخ کرنے کی درخواست دے سکتی ہے( عربی میں اسے خلع کہا جاتا ہے)لیکن انہیں اپنا مہر واپس کرنا ہوگا(شادی کا تحفہ) ۔ ایک مرد کو صرف ایک لفظ بولنا ہے اور تین مہینے کے بعد اسے طلاق ہوجائے گی۔

اسلام میں طلاق پر میری پوسٹ دیکھیں

شادی

مردوں کو ایک سے زیادہ ہمسفر کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت ہے:۔

اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیاده قریب ہے، کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ

4:3 قرآن)

یہودیوں اور عیسائیوں سے شادی کے لیے:۔

کل پاکیزه چیزیں آج تمہارے لئے حلال کی گئیں اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ہیں ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں جب کہ تم ان کے مہر ادا کرو، اس طرح کہ تم ان سے باقاعده نکاح کرو یہ نہیں کہ علانیہ زنا کرو یا پوشیده بدکاری کرو، منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وه ہارنے والوں میں سے ہیں

5:5 قرآن)

اور اپنی لونڈیوں سے جنسی مباشرت کرنے کے لیے:۔

 

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ غزوہ بنی مصطلق میں نکلے تو ہمیں کچھ عربی لونڈیاں ہاتھ لگیں ، ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور عورتوں سے الگ رہنا ہم پر گراں گزرنے لگا ہم ان لونڈیوں کو فدیہ میں لینا چاہ رہے تھے اس لیے حمل کے ڈر سے ہم ان سے عزل کرنا چاہ رہے تھے ، پھر ہم نے اپنے ( جی میں ) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں تو آپ سے اس بارے میں پوچھنے سے پہلے ہم عزل کریں ( تو یہ کیونکر درست ہو گا ) چنانچہ ہم نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ نہ کرو تو تمہارا کیا نقصان ہے ؟ قیامت تک جو جانیں پیدا ہونے والی ہیں وہ تو ہو کر رہیں گی “ ۔

( 2172ابو داود)

اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی (حرام سے) حفاﻇت کرتے ہیں،ہاں ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جن کے وه مالک ہیں انہیں کوئی ملامت نہیں

( 70:29-30 قرآن)

میری لمبی پوسٹ یہاں دیکھیے اسلام میں خاتون جنگی قیدیوں کے ساتھ سونا

آخرت

محمد نے کہا کہ خواتین مذھب اور ذہانت میں ناقص ہیں اور جہنم کی اکثریت عورتوں سے بھری ہوئی ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے ۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے ۔ انھوں نے کہا یا رسول اللہ ! ایسا کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا ۔ عورتوں نے عرض کی کہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے ؟ انھوں نے کہا ، جی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے ۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے ، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے

(بخاری 304, بخاری اور ترمذی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو جنتیوں میں زیادتی غریبوں کی نظر آئی اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو دوزخیوں میں کثرت عورتوں کی نظر آئی

(بخاری 3241 اور دوسرے)

پھر بھی عجیب طور پر اس نے ایک دوسری حدیث میں کہا جہنم میں رہنے والوں کی اکثریت یاجوج ماجوج کی ہے۔

جہنم کے لیے کون لوگ مہم ہیں؟ الله کہے گا،  ہر ایک ہزار میں سے نو سو نناوے باہر لے آو۔ پیغمبر نے فرمایا، ” نو سو ننانوے یاجوج ماجوج سے نکالے جائیں گے اور ایک تم میں سے(جہنم میں پھینکنے کے لیے)۔

( 265بخاری )

جنت میں

جنت میں مردوں کو بڑی چھاتیوں والی گڑیاں ملیں گی سارا دن کھیل کود کے لیے:۔

 

اور اُن کے پاس نیچی نگاہوں والی (باحیا) ہم عمر (حوریں) ہوں گی

38:52قرآن)

ان میں نیک سیرت خوبصورت عورتیں ہیں

گوری رنگت کی) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں)

ان کو ہاتھ نہیں لگایا کسی انسان یا جن نے اس سے قبل

سبز مسندوں اور عمده فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے
55:70-76 قرآن)

اور نوجوان کنواری ہم عمر عورتیں ہیں

78:33 قرآن)

اور ان کی بیویاں بڑی آنکھوں والی حوریں ہونگی

( 2834c مسلم)

وراثت

میری اپنی پیاری بیٹی جیسیلڑکیوں کو اگر میں مر جاتا ہوں تو اس کا آدھا ملے گا جتنا بیٹوں کو ملے گا۔

 

اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اوﻻد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔

4:11 قرآن)

یہ کس طرح معقول ہے؟ میں خواہش کروں گا کہ میری بیٹی کو اس کے بھائیوں کے برابر حصہ ملے۔ مسلمان بعض اوقات کہیں گے کہ ” اچھا اس کے بھائی اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں”۔ لیکن یہ ایک عجیب دلیل ہے۔ کیا ہو اگر وہ شادی شدہ ہے، کیا وہ میری وارثت کے قابل نہیں؟ کیا ہو اگر جو پیسے میں اسے دوں وہ اپنے بچوں پر خرچ کرنا چاہتی ہو؟  اسے کیوں جتنا میرے لڑکوں کو ملے اس کا آدھا ملے؟ آجکل مرد اور عورت دونوں کام کرتے ہیں اور میرے لیے اچھا ہوگا کے میں اس کے لیے کچھ پیسے چھوڑ جاؤں اس کے گھر کی ادائیگی کے لیے یا اس کے بچوں کی تعلیم کے لیے رکھنے کے لیے۔

 

یہ کس طرح معقول ہے ہمیشہ کا قانون کہ لڑکوں  کو لڑکیوں سے دگنا ملے؟

 

اسلام نے عورتوں کو بعض حقوق دیے ہیں، جیسے جائیداد کی ملکیت کا حق، لیکن اس نے کچھ حقوق ان سے سلب بھی کئے ہیں۔

دیکھیں اسلام میں طلاق

اسلام سے پہلے عرب عورتوں کے بارے میں مزید پڑھیں

اس کے علاوہ اسلام میں زنا پر موت کی سزا پر میری پوسٹ دیکھیں

Picture source: Pinterest. Fair use, no copyright infringement intended.  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.