About

The blog title

میں نے اپنے بلاگ کے ٹائٹل کے لیے عبدللہ سمیر نام کیوں چنا؟

کیوں کہ یہ میرے سفر کے دونوں اطراف کی زندگی کو دکھاتا ہے. میں سمیر کے طور پر پیدا ہوا تھا،اور پھر میں نے عبداللہ(اللہ کا بندہ) نام کا انتخاب کیا.  جیسا کہ اب میں مزید الله کا بندہ نہیں رہا، یہ عنوان بلاگ کے لیے فٹ بیٹھتا ہے۔

ٹاپ میں اگر آپ میرے تعارف کو چھوڑنا چاہتے ہیں اور سیدھا میرے نکات پر جانا چاہتے ہیں تو میرے ٹاپ مراسلات کو دیکھیں  سیدھا ان مسائل کو دیکھنے کے لیے جن کو میں نے اسلام میں پایا

یہ ہے وہ ویڈیو مختصر طور پر کہ میں نے اسلام کیوں چوڑا اگر آپ پڑھنے پر دیکھنے کو ترجیح دیں گے۔

 

میرے بارے میں

IMG-20160706-WA0003.jpg

میں تقریبا دس سال پہلے، مزید تصاویر میرے فیس بک صفحے پر

مجھے فیس بک پر لائک کریں

مجھے ٹویٹر پر فالو کریں

 

میں کینیا میں اسماعیلی پیدا ہوا تھا اور چھوٹی عمر میں ہی کینیڈا آ گیا۔

میں اسماعیلی کے طور پر پلا بڑھا، میری ماں سنی ہے اور باپ اسماعیلی۔ کینیڈا میں پبلک اسکول میں بڑا ہونے کے دوران، ایک دوست نے اسکول کے بعد نماز کے لیے ان کے ساتھ شمولیت کی دعوت دی۔ اسماعیلی ہونے کے ناتے، میں نماز نہیں پڑھتا تھا(سنی عبادت کی ترتیب)، لیکن میں اس سے پہلے اپنے انکل کے ہاں دو دفع پڑھ چکا تھا جب اس نے مجھے پڑھنے کے لیے مجبور کیا،اور کافی آرام دہ محسوس کیا،تو میں ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔

میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ اگر آیا یہ ٹھیک تھا،جنہوں نے مجھے بتایا کہ فرق نہیں پڑتا کہ تم کس طرح خدا کی عبادت کر رہے ہو،وہ ٹھیک تھا۔تو میں نے ان کے ساتھ روزانہ عبادت شروع کردی۔میں نے جمعہ کے لیے بھی جانا شروع کردیا، اور بالآخر میں نے قرآن پڑھنا شروع کردیا۔مجھے یہ واقعی پسند آیا اور محسوس کیا کہ خدا مجھ سے یہی چاہتا ہے۔جب میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا تو یہ بہت عقلی لگا اور بالا خر مجھے’ محسوس ہونے لگا کہ سنی فرقہ زیادہ صحیح ہے۔ اس طرح محسوس ہوا کہ وہ غیر تبدیل شدہ اور خالص تھا اسماعیلی فرقے کے مقابلے میں جو کہ جدید اور خالی لگا۔

تو جیسے وقت گزرتا گیا، اگلے سال تک( ابھی بھی ہائی اسکول میں) یا اس سے زیادہ میں میں یہاں نوجوان مسلمانوں اور مسلم طلبہ تنظیموں کی طرف سے منعقد کردہ  سنی درس سننا شروع کردیے اور بالاخر قرآن کو پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اسماعیلی مذھب شرک کی بنیاد پر قائم ہے اور یہ کہ آغا خان سے دعا مانگنا ناقبل معافی جرم’ ہے۔

یوں میں نے اسماعیلی فرقہ چھوڑ دیا اور باقاعدہ طور پر سنی بن گیا۔میرے چھوٹے بھائی نے ایک سال بعد میری پیروی کی۔وہ ابھی بھی آج کے دن تک سنی مسلمان ہے۔

جب میں ہائی اسکول میں تھا،میں نے اسلام کو پایا۔ ایک دوست نے مجھے قرآن پڑھنے کی دعوت دی اور میں حیران رہ گیا تھا کہ کیسے میں نے اپنے لیے خدا کے پیغام کو پایا اوروہ کیسے چاہتا تھا کہ میں اپنی زندگی گزاروں۔ میں نے اسے صفحہ بہ صفحہ انگلش میں پڑھا اور صحیح بخاری کو صفحہ بہ صفحہ پڑھنے کے لیے آگے بڑھا(خلاصے والا ایڈیشن)۔ بہت سالوں تک میں ابھی بھی اسماعیلی تھا،لیکن میں اثنا کینیڈا جیسے کنونشن میں شرکت کرلیتا تھا اور مقامی نوجوان مسلمانوں  کی تقریبات جیسا کےصہیب ویب کی ” زنا ایک بیماری ہزار شکلوں کے ساتھ” میں بھی چلا جاتا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اسماعیلی فرقہ اسلام کے سچے پیغام کی تحریف تھا اور میں نے اپنی شناخت سنی مسلمان کے طور پر کروانا شروع کردی، سولہ یا اٹھارہ سال کی عمر کے ارد گرد۔ آپ اس کا مختصر خلاصہ جو میں نے ” میں نے سنی بننے کے لیے اسماعیلی فرقہ کیوں چھوڑا” پر لکھا تھا( میں نے یہ بہت سال پہلے لکھا تھا) پڑھ سکتے ہیں۔

جب میں ( سنی) مسلمان بن گیا، میں نے جتنا ممکن تھا اسلام کی پیروی کی اپنی بہترین قابلیت کے مطابق۔ اس کا مطلب تھا کہ اگرچہ میں پہلی دفع گھر چھوڑ کر یونیورسٹی کے کیمپس پر رہنے جا رہا تھا، مجھے اس تمام ہلے گلے سے بچنا پڑا جو میرے دوست لڑکیوں اور شراب کے ساتھ کر رہے تھے۔ میں نے ان تمام برائیوں سے مکمل طور پر پرہیز کیا۔

جیسے ہی مجھے پتہ چلا کہ  “light upon light“اس عرصے کے دوران میں نے ایک ویب سائٹ شروع کی

لوگوں کے لیے مفت میں  دیکھنے کے لیے  کچھ زیادہ اسلامک  ویڈیوز دستیاب نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ میں خود کانفرنسوں میں جا کر اور مسجدوں  میں جا کر تقریبات کی ریکارڈنگ کیا کرتا تھا۔ میری اس ویب سائٹ پرسے چار ملین ڈونلوڈ ہو چکے ہیں۔

“light upon light”یہ ایک مثال ہے میری ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ یہ میرا عبداللہ آدم یو ٹیوب چینل ہے۔ یہاں میرا پرانا بلاگ ہے

اس کے ساتھ، میں شیخ یوسف ایسٹس اور اس کی شئر اسلام فیملی کی سائٹس کے ساتھ بھی بہت زیادہ شامل رہا ہوں، تکنیکی مدد فراہم کرنا اور سرورز کو آسانی سے چلانے کے لیے مشورے دینا، بیک اپ اور   ReciteQuran.com، QTafsir.com ،Islam news roomبھی۔ اس کی کچھ سائٹس کے نام یہ ہیں

اور بہت سے مزید۔ اور یہ رضاکارانہ بنیادوں پر کیا گیا۔

 

کی طرف سے کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر کام  IslamicTube اور مرادEddy (The Deen Show) میں نے کیا۔ ایڈی رویا جب اس نے سنا کہ میں نے اسلام چھوڑ دیا ہے اور ہم نے اس کے بارے میں چند بار بات بھی کی لیکن ایسا ہی ہے جیسا ہے۔

سائٹ بھی چلائی( اب بند ہو چکی ہے)جو کہ کچھ ایسا تھا جس میں VerseByVerseQuran.com میں نے مینے اپنا سالوں کا کام اور ہزاروں ڈالرز ڈالے۔میں اس کو بند کرنے پر بہت اداس تھا۔ یہ قرآن کی انفرادی آیات کی آڈیو تھیں( چھ ہزار دو سے چھتیس آیات ہر تلاوت میں،اور وہاں بہت زیادہ تلاوتیں تھیں(، ایک ہزار سے زائد دوونلوڈز ایک ہی وقت میں ہر وقت ہورہی ہوتی تھیں جو رمضان میں بڑھ کر ایک ہی وقت میں پچیس سو دوونلوڈز  موبائلrecitequran.com, tanzil.net, تک چلی جاتی تھیں۔قرآن کی آڈیو  کو سینکڑوں ایپلی کیشنز بشمول قرآن اپپ کی تیاری میں استعمال کیا جاتا تھا۔ پوری فہرست یہاں دیکھیں۔ اور میں نے کبھی بھی جو اسے استعمال کرنا چاہتا تھا اس سے معاوضہ نہیں لیا۔ یہ ہمیشہ بغیر کسی معاوضے کے مفت تھی۔ اور میں نے محمود ہمام کے محمود ہمام اس ویب سائٹ کا والیhttp://quran.ksu.edu.sa) پر”VerseByVerseQuran” ساتھ کام کیا اور یہ دونوں آپ کو بتایں گے کہ میں نے اس کہ بدلے کچھ نہیں مانگا جو میں نے ان کے لیے کیا۔

 

ایک مسلمان ہونے کے ناطے میں قربانیاں

میں ان چیزوں کا ذکر دکھاوے یا شہرت کے لیے نہیں کر رہا، لیکن یہ دکھانے کے لیے کہ میں نے اپنے آپ کو اسلام کے لیے وقف کر رکھا تھا اور میں سچے دل سے اس پر یقین رکھتا تھا۔ جیسا کہ آپ میں سے زیادہ تر لوگ مجھے نہیں جانتے، میں صرف اس لیے یہ بتا رہا ہوں تا کہ میری کہانی زیادہ ذاتی اور حقیقی لگے،اور یہ دکھانے کے لیے کہ میں ایسا شخص تھا جو اللہ سبحانہ کے لیے مرنے کے لیے تیار تھا۔اس کے علاوہ، بہت سے لوگ مجھے یہ مضحکہ خیز بات بتاتے رہے کہ” اوہ تم تواصل میں کبھی بھی مسلمان تھے ہی نہیں”۔ تو میں نے سوچا میں یہ حصہ شامل کروں گا تا کہ یہ مزید حقیقی اور ذاتی لگے۔

جیسا کہ میں خدا کی خاطر  جی رہا تھا، میں نے بہت  سے ذاتی انتخاب کیے اور قربانیاں دیں اپنے اس عہد پر پورا اترنے کے لیے۔ اس کا ایک حصہ میں پہلے ہی اوپربیان کر چکا ہوں جیسی کوششیں میں نے کیں سب کو اسلام کی تشہیر کی۔ایک اور قربانی یہ تھی کہ گرل فرینڈ نا بنانا بلکہ براہ راست شادی کرنا۔ میں نے اکیس سال کی عمر میں شادی کرلی۔ مجھے کرایے کے گھر پر رہنا پڑا کیونکہ میں رہن پر گھر نہیں خرید سکتا تھا۔اگلی چیز جس سے میں بچا وہ تمام قسم کا سود تھا اور میں نے تمام بنک کی نوکریوں سے انکار کیا۔میں حلال کھانا خانے کہ بارے میں بھی بہت سخت تھا۔ بہت سالوں تک میں نے برسیاں اور سالگرہ نہیں منایں کیوں کہ میں سوچتا تھا کہ یہ حرام تھیں۔

عمرہ

Me at Umrah
میں عمرہ کے موقع پر

سن دو ہزار گیارہ میں ہم عمرہ پر گیئے اور مکّہ اور مدینہ کا دورہ کیا۔ یہ بہت لطف اندوز تجربہ تھا۔

ہم چھٹیوں پر کچھ مہینوں کے لیے مصر بھی گیئے اور عربی پڑھنے کی کوشش کی(جس کا مجھے کرنے کا وقت نا مل سکا)۔

Family Pic I
مصر میں خاندان کی تصویر

اسلام چھوڑنا

  بھلا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ بڑا باریک بین (ہر چیز سے)

خبردار ہے

(67:14)

تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، اور اگر یہ (قرآن) غیرِ خدا کی طرف سے (آیا) ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سا اختلاف پاتے

(4:82)

 

آرچر ایل گلیسن لکھتے ہیں:۔

 

اگر بیانات جو قرآن میں تاریخ کے معاملات اور سائنس پر مشتمل ہیں ثابت کیے جا سکتے ہیں اضافی قرانی سے، قدیم دستاویزت جو آثار قدیمہ کی کھدایوں سے ملیں، یا جدید سائنس کے قائم کردہ حقائق سچ کے برعکس نکلیں، تو پھر مذھب کے معاملات میں اس کی سچائی پر سنگین شک آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اگر قرانی ریکارڈ حقائق کے ایریا میں جن کی تصدیق کی جا سکتی ہے غلط ثابت ہوجاتا ہے، تو پھر اس پر ان ایریاز میں جہاں اسے جانچا نہیں جا سکتا بہت مشکل ہے کہ اعتبار کیا جائے —آرچر ایل گلیسن

 

وکٹر سٹینگر لکھتے ہیں:۔

 

ہمارے مشاہدات، اس سلسلے میں قدرتی دنیا  کے بارے میں ہماری انجیل اور قرآن کی پڑھائی. بالکل ایسی ہی دکھتی ہے جیسا آپ اندازہ لگایئں گے کہ دکھیں اگر کوئی نیا علم نازل نہ ہورہا ہو—بلکل ایسی جیسی انسان کی دن کی سمجھ بوجھ تھی۔یہ ایسے ہے، یہ ایسے دکھتی ہیں جیسے کہ کوئی خدا نہیں ہے جو صحیفوں یا الہاموں کے ذریعے انسان سے بات کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص مذھبی تجربے سے گزرتا ہےجو صحیح معنوں میں اسے مادی دنیاسے آگے کی کسی حقیقت کے ساتھ بات چیتکے میں شامل کر دیتا ہے، تو ہم معقول حد تک توقع کر سکتے ہیں کہ اس شخص نے دنیا کے بارے میں گہرا، نیا علم حاصل کیا ہوگا جس کی عملی حقائق کے مقابلے میں جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔

یہ مختلف ہو سکتا تھا۔صحیفے ایسے الہامات پر مشتمل ہو سکتے تھے جو، الہام کے وقت لوگوں کی سمجھ سے باہر ہوتے،پھر بھی اسے پراسرار،باطنی علم کے طور پر ریکارڈ کیا جاتا۔ یہ علم ہوسکتا ہے کم پر اسرار ہوجاتا جیسے ہی سائنس اور دوسرے علمی فنون،جیسا کہ تاریخ،نفاست کی اعلی سطح پر تیار ہوئی۔

اقتباس وکٹر سٹنگر کی، خدا ناکام مفروضہ

Quotes from Victor Stenger, God the failed hypothesis.

 

میں نے بتیس سال کی عمر میں اسلام چھوڑا……. رمضان کے درمیان میں، دو ہزار پندرہ(جون کے آخر میں)۔ زیادہ تر مسلمان کبھی بھی اپنےا یمان کو نہیں للکاریں گے اور کبھی ایسی چیزیں نہیں پڑھیں گے جو انھیں شک میں ڈال دیں،جس وجہ سے میں محسوس کرتا ہوں کہ ان میں سے زیادہ تر کبھی اسلام نہیں چھوڑیں گے۔البتہ ، سالوں کے دوران کافی پریشان کن شکوک میرے دماغ میں آئے۔ میں نے ایک ساتھی کا کمینٹ دیکھا جو تقریبا مسلمان ہوگیا تھا،لیکن جب وہ تحقیق کر رہا تھا،اسے پتا چلا کہ  قرآن میں کہانیاں اصل میں تلمودکے ذرائع سے آئی تھیں۔ میں نے بے شک سختی سے اس کی تردید کی اور میں اس آدمی کے ساتھ مکالمے میں مصروف ہوگیا۔ یہ میرے اسلام چھوڑنے کے ایک سال پہلے ہوا۔ اپنی تحقیق کے دوران مجھے اسلام پر شک ہونے لگا اور حتیٰ کہ ایک دن کے لیے چھوڑ بھی دیا۔ لیکن پھر میں نے اس سب کو پس پشت ڈال دیا اور کسی طرح اپنے مسائل کو حل کرلیا اور ایک اور پورے سال کے لیے مسلمان رہنا جاری رکھا۔ اس سال کے دوران، میں بلکل سو فیصد مسلمان تھا، پانچ وقت نماز پڑھنا،وغیرہ..کس نے اس کو متحرک کیا اس سال کے بعد میں حلاقا منجانب شیخ داود بٹ میں گیا جس نے کچھ سائنس اور قرآن کے بارے میں ذکر کیا،شاید وہ یہ تھا کہ کیسے آسمان کھڑا ہے بغیر(نظرآنے والے) ستونوں کے۔یا شاید اس نے کچھ اور کہا تھا۔جس طرح بھی،اس سے مجھے تحقیق کرنے کی Rational Islam Blog, RationalWiki چاہت ہوئی اور میں نے بہت زیادہ وقت سب کچھ پڑھنے پر لگایا۔   کی ویڈیوز دیکھیں( یہ ایک اور ساتھی The Rationalizer’s videos میں نےان پر موجود تمام پوسٹس پڑھیں  تھا جو تقریبا مسلمان ہوگیا تھا)، اور مجھے یہ پتہ لگنا شروع ہوا کے جس بیانیہ پر میں یقین رکھتا تھا اس میں تو کافی گڑ بڑ تھی۔ کوئی شاید کہے کہ، تم نے یہ خود کیا ہے اپنے ساتھ، کیوں تم اسلام کے خلاف چیزیں پڑھو گے؟ اچھا، اگر آپ سچے مذھب پر ہیں تو، اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے؟ اس کے علاوہ، ان چیزوں سے بچنے کا رویہ جو آپ کے ایمان کے خلاف ہوں اس طرح میں مسلمان نہیں ہوا تھا۔ میں مسلمان ہوا کیونکہ میں اپنے پہلے سے قائم شدہ نظریات کو للکارنے کے لیے تیار تھا۔ وہ لوگ جو مجھے بتا رہے ہیں کہ اسلام کے خلاف چیزیں نا پڑھو انہیں احساس ہونا چاہیے، یہی وہ رویہ ہے جو لوگوں کو غلط نظریات کی پیروی پر قائم رکھتا ہے۔ دوسری مزاحیہ بات یہ کہ جب آپ مسلمان بنتے ہو، کوئی آپ سے نہیں پوچھتا کہ اگر آپ کو پتہ ہے عربی کیسے پڑھتے ہیں، لیکن جب آپ اسلام چھوڑتے ہیں، اچانک وہ چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس اسلامی الہیات اور عربی میں پی ایچ ڈی ہو اس سے پہلے کہ تم قرآن کو غلط کہو۔ کھلا دماغ اور سچ کے لیے سنجیدگی ہی کسی کو سچ کا راستہ دکھاتی ہے

 

اہم مسائل جو مجھے پیش آئے

اوپر کے مراسلات پر ایک نظر ڈالیں۔ ذولقرنین کی کہانی ایک اہم مسلہ ہے۔ یہ صرف یہی نہیں دکھاتی کہ کس طرح ایک اور مشہور کہانی کو قرآن میں متعارف کرایا گیا تھا بلکہ اس کے علاوہ ان کہانیوں میں کچھ بیانات دکھاتی ہیں کہ کس طرح اس وقت کے لوگوں کا ناقص نظریہ قرآن میں آیا۔ دوسرا اہم مسلہ قرآن میں ارض مرکزی ہے۔ ان دعووں کے جواب میں اب تک جو بہترین جواب مسلمان لے کر آئے ہیں وہ یہ ہے کہ ” اسے لفظی نہ لو” یا ” قرآن سائنسی غلط فہمیوں کے جواب کے لیے نہیں ہے”۔ اور اہم مسلہ اسلام میں توہم پرستی ہے جیسا کہ جادو، بری نظر،اور جن جو کہ بلکل سچ نہیں ہیں۔

 

یہ بلاگ کیوں بنایا؟

میں نے یہ بلاگ اس لیے بنایا تا کہ میں اپنی وجوہات بیان کرسکوں ایک منظم انداز میں کہ میں نے اسلام کیوں چھوڑا اس امید پر کہ یہ دوسروں کو بھی سوچنے پر مجبور کرے۔ میں نے اپنی نصف زندگی اسلام کو فروغ دیا، اپنی مہارتوں کو  استعمال کرتے ہوےاسلام کو دوسروں تک پہنچایا۔ میں نے اسلامی ویڈیوز مفت بانٹنے کے لیے میں کچھ ڈی وی ڈیز (Light Upon Light, along with Verse By Verse Quran)سائٹ تخلیق کی  مسجدوں کے باھر اور آن لائن تقسیم کیا کرتا تھا۔

میری شخصیت بانٹنے والی ہے،اور بلکل جس طرح میں نے اسلام کو دوسروں کے ساتھ بانٹا، میں دوسروں کے ساتھ اپنےنئے نتائج بانٹنا چاہوں گا۔

 

اب کیا؟

اسلام الہی مذاہب میں سب سے بہترین انتخاب لگا تھا،اور اس کا اب خاتمہ ہوگیا ہے، میں کسی مذھب کی پیروی نہیں کرتا۔ تمام ارادوں اور مقاصد کے لیے میں ایک ملحد ہوں۔ جبکہ میں تردید نہیں کرتا کہ ہوسکتا ہے کہ ایک خالق ہو جس نے سب کچھ تخلیق کیا، کیونکہ اس خالق نے ہمیں کوئی الہام نہیں بھیجا، تو اس سےعملی طور پر کوئی فرق نہیں پڑتا اگر ہم اس پر یقین رکھیں یا نہ رکھیں۔ تکنیکی نقطہ نظر سے اسے ” خدا پرستی یا موحد پرستی” کہتے ہیں ( ایک خدا پر ایمان لیکن ایک ایسا خدا نہیں’ جو اپنی تخلیق کے ساتھ رابطہ رکھتا ہے) میرا ماننا ہے کہ اگر خدا وجود رکھتا ہے، اس نے کوئی الہام نہیں بھیجا۔ کیونکہ میں نے خدا کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا یہ یکساں طور پر ممکن ہے کہ خدا وجود نہیں’ رکھتا۔تمام ارادوں اور مقاصد کے لیے خدا پرستی اور الحاد عملی طور پر ایک طرح ہی ہیں۔ میں سب کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ غور کریں کہ اگر قرآن خدا کی طرف سے ہے۔

 

آپ شاید میری دوسری متعلقہ پوسٹس پڑھ کر بھی لطف اندوز ہوں:۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.